تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 336
۳۳۶ کی وجہ سے یوں آگئے ہوں لیکن دوست محمد خاں صاحب حجامہ نے اپنی زندگی میں مجھے کہا تھا کہ میں س کے پاس جائے گا اور کہوں گا کہ ہم پہ جو یہ عتاب ہوا ہے وہ اس نوٹس کی وجہ سے ہوا ہے جو تم نے بلا وجہ امام جماعت احمدیہ کر دیا تھا اس لیے اس پر خدا تعالیٰ کے سامنے ندامت کا اظہار کر د۔ممکن ہے انہوں نے اسے کہا ہو اور اس وجہ سے وہ ملاقات کے لیے آیا ہو۔بہر حال وہ ملاقات کے لیے آیا اور اپنے نائب کو بھی ساتھ لایا۔ملاقات کے وقت میں دوسری یا تیں ہوتی رہیں۔اس بات کے متعلق اس نے کوئی ذکر نہیں کیا۔لیکن ممکن ہے شرمندگی کی وجہ سے اس نے ذکر نہ کیا ہو۔بہر حال دوست محمد خاں صاحب حجانہ با وجود اس کے کہ ایک معمولی زمیندار تھے ان کے تعلقات نوابوں ریلیوں سے تھے اور وہ انہیں بڑے دھڑلے سے تبلیغ کیا کرتے تھے۔الیکشن کے موقع پر بڑے بڑے درد سا انہیں بلاتے اور کہتے ہماری مد کریں کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ علاقہ میں اُن کا اثر ہے اور اُن کے ادنی سے اشارہ پر لوگ ان کی امداد کرنے کے لیے آجائیں گے ایک دفعہ اُن کے ضلع میں ایک ای اے سی نے تنظیم اہل سنت والجماعت شروع کی اور اس کا ایک اختبار جاری کیا وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے حضور ان کا مقابلہ کیجیے میں نے کہا خانصاحب گھر ایسے نہیں تنظیم سنو سنو لوٹ جائے گی۔آپ کو اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا۔در روز نامه الفضل ربوده ۲۳ اکتو بر ۱۹۵۰ ء ص ۴ - ۵) ۱۲ را جه غلام نید ر صاحب ہجگہ مضلع سرگودہا (دنات نومبر ۱۹۵۶ ۶) حضرت مصلح موعود نے ۲۳ نومبر وارد کے خطبہ جمعہ میں ان کی نمازہ جنازہ پڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا : - ہجکہ کی جماعت بڑی پرانی جماعت ہے اور راجہ غلام حیدر صاحب بڑے مخلص احمدی تھے۔کہیں انہیں ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں۔بڑے تبلیغ کرنے والے تھے۔ان کا لڑکا بھی بڑا ہو شیلا ہے۔مولوی فاضل ہے اور آج کل مسلمان نہیں کام کرتا ہے۔پہلے ہمارے اخبار المصلح کراچی کا نائب ایڈیٹر ہوتا تھا۔د (الفضل یکم دسمبر ۱۹۵۶ ء ص ۴)) اثر را رحمان نے ناظم کیوٹیو بی این کمپنی ربوہ ) مراد ہیں۔