تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 334
۳۳۴ پہلی بار آپ نے اخبار الفضل کو روزنامہ بنانے کی تحریک فرمائی۔تبلیغ کرنے کا بہت شوق تھا۔کئی بار غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے ٹیکٹ چھپوائے۔یوم تبلیغ کے موقع پر میلوں میل پیدل دیہات میں جاتے اور پیغام حق پہنچاتے۔ان خدمات کے پیش نظر آپ کو مبلغ صاحب کے نام سے۔الفضل ۲۷ نومبر ۱۹۵۶ و مث ) پکارا جاتا تھا۔الا - دوست محمد خانصاحب حجانه - روفات ۲ نومبر ۱۹۵۶ء) ڈھورہ جانہ تحصیل جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان میں ششماء میں پیدا ہوئے۔حضرت خلیفہ ادل کے دست مبارک پر بیعت کی۔انگریزی مڈل اور نارمل پاس کر کے سہ تک ٹیچر رہے۔پھر دس سال تک لغاری اذاب کی اسٹیٹ پر مشیر مال رہ کر اپنی محنت۔دیانت اور قابلیت سے اس وسیع رقبہ کو آباد کر کے اور نہریں بنوا کر اپنی یادگار کے انمٹ نقوش چھوڑے۔اپنے پسماندہ ضلع کے کے مسائل کے حل کے لیے ایک اخبار " ڈیرہ غازی خان رپورٹر نکالتے رہے۔بعد میں عرائض نویسی کرتے ا رہے۔اور اپنی قانونی قابلیت سے مظلوموں کی امداد کرتے رہے۔۱۹ء سے ۱۹۲۷ء تک سیکرٹری ڈسٹرکٹ ایجوکیشن رہے۔اور تعلیم کو فروغ دیا۔نہایت ہی سادگی پسند پابند صوم وصلاة و تجد تھے۔ادر احمدیت اور خلیفہ وقت کے شیدائی تھے۔اپنے دولڑکوں کو قادیان دارالامان میں تعلیم دلوائی۔غریب طلباء اور بیواؤں کی مالی امداد کرتے۔لڑکوں کو نصیحت کرتے کہ رزقی حلال کو مقدم رکھیں۔حضرت امام الانبیاء کے ارشاد کی تعلیم کے مطابق آپ کے نیک نمونہ کی درجہ سے اپنی برادری اور باہر کئی گھرانے آغوش احمدیت میں آگئے۔آپ ۲ نومبر ۱۹۵۶ء کو فوت ہوئے اور ۱۶ار نومبر ۱۹۵۶ء کو حضرت مصلح موعود نے جنازہ غائب پڑھا اور خطبہ جمعہ میں آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا :- ایک جنازہ تو دوست محمد خاں صاحب حجا نہ کا ہے جو ۲ نومبر کو فوت ہو گئے ہیں انہوں نے ہ میں یعنی حضرت خلیفہ اول کے عہد خلافت میں احمدیت قبول کی تھی نہایت مخلص جوشیلے احمدی تھے انہیں تبلیغ کا جنون کی حد تک ہوش تھا۔ان کے بیٹے نے مجھے لکھا ہے کہ والد صاحب کی خواہش محتی کہ حضور ان کا جنازہ پڑھائیں اور اپنی زندگی میں بھی جب وہ مجھے ملتے تھے اسس خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے کہ ہمیں ان کا جنازہ پڑھاؤں جیسے احمدیت کے سلسلہ میں وہ