تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 332
www سے لیکر ۱۹۳۷ ء تک یعنی صدی کے تہائی حصہ سے بھی زیادہ عرصہ آپ نے یہ ذمہ داری ادا کی۔آپ اس لیے عرصہ میں نہایت خوش اسلوبی سے الفضل کی ادارت کا نازک کام سر انجام دیتے رہے۔سید نا حضرت مصلح موعود نے ۲۰ اپریل ۱۹۵۶ کے خطبہ جمعہ میں آپ کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھانے سے پہلے ارشاد فرمایا:۔الفضل کے ابتدائی اسسٹنٹ ایڈیٹر در حقیقت رہی تھے۔ایڈیٹر میں خود ہوا کرتا تھا۔اور اسسٹنٹ ایڈیٹر وہ تھے۔ان کی تعلیم زیادہ نہیں تھی صرف مڈل پاس تھے مگر بہت ذہین اور ہوشیار تھے میری جس قدر پہلی تقریر یں ہیں وہ ساری کی ساری انہی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں وہ بڑے اچھے زود نویں تھے اور ان کے لکھے ہوئے لیکچروں اور خطبات میں مجھے بہت کم اصلاح کرنی پڑتی تھی پھر وہ اخبار کے ایڈیٹر ہوئے اور ایسے زبر دست ایڈیٹر ثابت ہوئے کہ در حقیقت پیغامیوں سے زیادہ تر حکمر انہوں نے ہی لی ہے۔پیغام صلح کے وہ اکثر جوابات لکھا کرتے تھے اسی طرح وہ میرے ابتدائی خطبات وغیرہ بھی لکھتے رہے جو انہی کی وجہ سے محفوظ ہوئے۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کا جماعت پر ایک بہت بڑا احسان ہے اور جماعت ان کے لیے منتی بھی دعائیں کرے اس کے وہ مستحق ہیں " الفضل دارمئی ۱۹۵۶ ص۲) تصانیف : -1- ایک کشف پر ملف ( حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کا حلف برخی کے چھینٹوں کے متعلق ہے۔پنڈت لیکھرام کا واقعہ قتل۔۳۔ایک نئی تحقیقات - ۴ - امت محمدیہ میں محمد - چھتیس سال قادیان میں رسوانح حیات) اولاد : - دسپلی بی بی سے - کنیز احمد صاحبہ ۲۰ - خواجہ حمید احمد صاحب - ۳ - خواجہ مجید احمد صاب خواجہ شبیر احمد صاحب - ه - خواجہ میر احمد صاحب - ۶ - خواجه تنویر احمد صاحب مرحوم ردوسری بجایی رسیده صاحبه - ۸ نیمه صاحبه - ۹ - نسیم احمد صاحب مرحوم - ۱۰- نعیم احمد صاحب مرحوم۔۱۱ - کلیم احمد صاحب - ۱۲ - ریاض النبی صاحب - ۱۳ - مبارکه صاحبه - ۱۴ بلغمیہ صاحبہ ۱۵ - برای صاحبہ -۔۔ر چھتیس سال قادیان میں مؤلفہ منشی غلام نبی صا حب بلا نومی سابق ایڈیٹا الفضل ) ! į