تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 333
۳۳۳ -4 - میاں عبد الکریم صاحب سابق سیکرٹری مال لاہور۔(وفات ۲۳ اگست ۶۱۹۵۶) حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیں لاہور کے نواسے اور ریلوے میں آفیسر ان سپیشل ڈیوٹی کے عہدہ پر فائز تھے تقومی شعاری۔اخلاص۔ہمدردی اور خندہ پیشانی اور پختگی اصول آپ کے نمایاں ارمان العضل ار ستمبر ۱۹۵۶ء ص ) تھے۔سیٹھ محمد علی صاحب صدر جماعت احمدیہ اد شکور (دکن) (وفات ۲٫۲ ستمبر ۲۱۹۵۶۲) آپ سلسلہ احمدیہ کے پرانے خادم تھے اور حضرت سیٹھ شیخ محسن صاحب مرحوم امیر جماعت یادگیر وکرم سیٹھ محمد معین الدین صاحب امیر جماعت چنتہ کنڈ (دکن) کے اقارب میں سے تھے۔بیری کے کارخانے کے مالک تھے۔ٹرین کے حادثہ میں شہید ہوئے اور احمد یہ قبرستان حیدر آباد دکن میں تدفین عمل میں آئی۔الفضل دار ستمبر ۱۹۵۶ (مت) - شاہ جی محمد اکرم خالصاحب رئیس ترنگ زئی پشاور روفات استمبر ۱۹۵۶ ۶) نہایت مخلص اور اعلیٰ اخلاص کے حامل تھے۔اور اپنے علاقہ میں جماعتی تنظیم کے اعتبار سے ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔اور سلسلہ کے مالی جہاد میں بھی پیش پیش رہتے تھے۔+ الفضل ۲۰ ستمبر ۱۹۵۷ وصل ، الفضل ۹ اکتو به ۹۵ رت) " محمد یسین خان صاحب آف فیروز پور چھاؤنی رونات ۱۶ اکتوبر ۱۹۵۶ء) ۱۹۲۳ یا ۱۹۲۲ ء میں قبول احمدیت کا شرف حاصل کیا۔اور با وجود تمام رشتے داروں کے سوشل بائیکاٹ کے تادم واپسیں احمدیت پر پوری قوت ایمانی کے ساتھ قائم رہے تبلیغ کا جنون تھا۔صاحب کشف بزرگ تھے۔اور تحریک جدید کے دورہ اقول کے مجاہدین میں سے تھے۔عمر بھر اپنی اولاد کو یہ نصیحت فرماتے رہے کہ شجر احمدیت سے ہمیشہ منسلک رہیں۔آپ کی ایک بیٹی محترمہ سر در سلطانہ صاحبہ مولانا عبد المالک خانصاحب کے عقد میں آئی۔الفضل 14 فروری ۱۹۵۷ء مث ) ۱۰ مولوی محمد علی صاحب مبلغ فیروز پوری - روفات ، ، اکتو به ۶۱۹۵۶) تداء میں احمدی ہوئے۔جس پر انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔مگر ان کے نیک ہونے کو دیکھ کر ان کو دوسرے بھائی بھی احمدیت میں شامل ہو گئے۔