تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 331
۔حکومت وقت کی اطاعت ضروری ہے۔۶- احمدیت کے لیے اخلاص اور ہر قسم کی قربانی کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے مگر ہیں دیکھتا ہوں کہ تم میں ان کے متعلق بہت کی ہے اگر تم کچھ سیکھ سکو محنت اور کوشش کر سکو تو میں تم دونوں کو موقع دینا چاہتا ہوں تم سوچ کر مجھے اس کے متعلق جواب روی اس خط کی جو نقل آپ کی وفات کے بعد کا غذات میں سے ملی اس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔نوٹ۔الفاظ میں کچھ کمی بیشی ضرور ہوگی مگر مفہوم یقینا ہی تھا۔اس تحریہ کا جواب جو آپ نے حضور اقدس کی خدمت میں ارسال کیا تھا وہ یہ ہے : سیدی و آقائی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا نہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وساطت سے حضور کا نور قعہ مجھے ملا ہے اس کے متعلق نہایت موقہ بانہ عرض ہے کہ یں تو اپنے آپ میں کوئی ایسی بات نہیں پاتا کہ ہمیں اس کام کے قابل بن سکوں گا لیکن یقین رکھتا ہوں کہ اگر حضور ایک تنکے سے بھی کوئی کام لینا چاہیں تو خدا تعالیٰ اس میں بھی اس کام کی اہلیت پیدا کر دے گا۔میں ایک تنکے کی حیثیت سے یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو حضور کے قدموں میں پیش کرتا ہوں۔سپردم بتو ما یه خویش را تو دانی حساب کم در بیش را طالب دعا۔غلام نبی اس کے بعد جلد ہی آپ ادارہ الفضل کے ساتھ منسلک ہو گئے کیم در بیش تئیس برس تک نہایت محنت اور جانفشانی کے ساتھ آپ نے الفضل ایسے اہم اخبارہ کی ادارت کے فرائض سر انجام دیے۔بالآخر ۱۹۲۶ء میں ریٹائر ہو گئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی خود آپ کو پڑھاتے رہے اور آپ روز بروزہ یہ محسوس کرنے لگے کہ حضور اقدس مجھ پر خاص شفقت اور ذرہ نوازی کی نظر فرماتے جارہے ہیں اور آپ کے مضمونوں کی اصلاح بھی حضور اقدس خود بڑی نوازش سے فرماتے۔جولائی ستارہ کو اخبار الفضل کی ایڈیٹری کی ذمہ داری پوری طرح آپ کو سونپ دی گئی۔