تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 317 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 317

آپ کے گاؤں میں بعض اور بزرگ بھی مثل منشی نور محمد صاحب دمیاں محمد غوث صاحب د غیر داخل احمدیت ہوئے۔مگ اکثریت بیگانوں کی تھی۔ہو مخالف علماء کے زیر اثر تھے۔اللہ تعالیٰ کی قدرت نمائی دیکھیے کہ اس نے علماء کے عنادا در دشمنی کو کئی سعید روحوں کے لیے شناخت حق کا موجب بنا دیا۔چنانچہ حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی روالد ماجد مولوی ثمر الدین صاحب) کی روایت ہے کہ :۔ایک دفعہ حضور علیہ السّلام نے مباحثات ومناظرات حكماً بند کر دیئے۔اُن دنوں مولوی اللہ دتہ و علی محمد سوهلوی و عبدالسبحان ساکن مسانیاں وغیرہ یکا یک نو صنع سر سیاں میں آگئے۔اُس وقت بھائی فضل محمد صاحب والد مولوی عبد الغفور صاحب مبلغ و منشی نور محمد صاحب وغیرہ ہر سیاں والے احمدی برادران نے مولوی فتح الدین صاحب کو دھر مکوٹ سے بلالیا اور سیکھواں میں ہماری طرف بھی بلانے کیلئے آدمی آگیا۔چونکہ حضور نے مناظرات وغیرہ مکلما بند کر دیئے تھے۔اس لیے ہیں اور میرے بھائی امام الدین صاحب برسیاں روانہ ہو گئے۔اور اپنے بڑے بھائی جمال الدین صاحب مرحوم کو حضور کی خدمت مبارک ہیں روانہ کر دیا۔برائے حصول اجازت مناظرہ اور وہاں پر ہم جا کہ مع احمدی دوستوں کے حضور کی اجازت کا انتظار کرنے لگے اُدھر فریق مخالف نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا۔اور بہت سے پیغام بھیج رہے تھے۔کہ جلدی ہمارے ساتھ مناظرہ کرلیں۔لیکن ہم نے جواب دیا کہ جب تک قادیان سے اجازت نہ دئے ہم قطعاً مناظرہ نہیں کریں گے۔اس پر مخالفین نے خوشی کے ترانے گانے شروع کر دیئے اور وہاں کا نمبر دار ان رمخالفوں کی طرف سے آیا اور مجھے الگ لیجا کر کہنے لگا کہ اگر آپ میں طاقت نہیں ہے مباحثہ کی تو آپ مجھے کہ دیں۔ہیں ان کو یہاں سے روانہ کر دیتا ہوں میں نے کہا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم میں مباحثہ کرنیکی بقیہ حاشیہ ۳۱ سے آگے دن قبل قادیان میں پہنچ چکے تھے۔اور حضرت مولانا حسن علی صاحب کی کتاب د تائید حق مل سے ثابت ہے کہ کہ یہ واقعہ ۲ جنوری ۹ہ کا ہے۔اس اعتبار سے آپ کی بیعت کا دن سر جنوری ۹۳ قرار پاتا ہے۔مگر اس میں ایک اور الجھن پیدا ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس سے یہ ماننا پڑتا ہے کہ آپ نے ۹۳شاء کے جلسہ سالانہ پر پہلی بیعت کا شرف حاصل کیا۔مگر یہ غلط ہے ۱۸۹۳ء کا جلسہ بھی نہیں ہواته الفضل - ارنومبر ۱۹۵۶ء ملام ل بیت ، ۱۸۹ ء وفات ہر نومبر ۱۹۴۳ در تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو الفضل دار مینوری ۱۹۵۶ء مره رست )