تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 318
۳۱۸ طاقت ہے اور فریق مخالف ہماری طاقت کو جانتا ہے۔لیکن ہم اپنے پیشوا کے حکم کے تابع ہیں۔قادیان ہمارا آدمی حصول اجازت مباحثہ کے لیے گیا ہوا ہے۔ہم منتظر ہیں اگر اجازت آگئی تو مناظرہ کر لیں گے درنہ نہیں۔پھر جو دل چاہے قیاس کر لینا تھوڑی دیر کے بعد میرے بھائی جمال الدین صاحب آگئے۔اور کہا کہ حضور نے اجازت نہیں دی۔جیب مخالفین کو علم ہو گیا کہ مباحثہ نہیں ہوگا تب اُن میں طوفان بے تمیزی بر پا ہوا۔اور ہو کچھ ان سے ہو سکتا تھا۔بکو اس کیا تمسخر اڑایا استھرا کی کوئی حد نہ رہی۔چھوٹے چھوٹے بچے بھی خوشی کے شادیانے گاتے تھے۔اور ہم خاموش تھے۔فریق مخالف بظاہر فتح و کامیابی کی حالت ہیں اور ہم ناکامی اور شکست کی حالت میں ہر سیاں سے نکلے لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت کا عجیب نظارہ دیکھیں کہ جمعہ کے روز ہر سیاں سے ایک جماعت قادیان پہنچ گئی کہ ہم میدت کرنے کے لیے آئے ہیں۔ہم حیرات ہوئے اور ہم نے پوچھا۔بظاہر تو ہماری شکست ہوئی تھی۔آپ کو کونسی دلیل مل گئی۔انہوں نے جوابا کہا کہ آپ لوگوں کے چہروں پر نہیں صداقت نظر آگئی اور ان (مخالفوں کے چہروں سے گذب اور بیہودہ پن نظر آیا۔یہی بات ہمکو قادیان کھینچ لائی یا کتے اور محلہ حضرت میاں فضل محمد صاحب خلافت ثانیہ کے عہد میں قادیان ہجرت کر کے آگئے تھے۔اور دار الفضل میں رہائش اختیار کرلی تھی۔تقسیم ہند کے بعد آپ پاکستان تشریف لے آئے اور ربوہ میں مقیم ہوئے۔آپ موصی تھے۔اور تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں بھی شامل تھے یکے آپ کا جنازہ حضرت مصلح موعود نے پڑھایا اور پھر اگلے روز 19 نومبر تولہ کے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ :۔د میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں والے فوت ہوئے ہیں۔انہوں نے شملہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔میں یہ اب 41 سال گزر چکے ہیں۔گویا شفاء کے بعد انہوں نے اکا سٹھ ملے دیکھے۔ان کے ایک لڑکے نے بتایا کہ والد صاحب کہا کرتے تھے کہ میں نے میں دقت بیعت کی اس کے قریب زمانہ میں ہی میں نے ایک کے جبر ر دایات نمبر ۱۴ ص ۲ و ص ۲ ایضاً الفضل ۲۳ مئی ۱۹۴۱ء ص ۳ الفضل - ارنومبر ۱۹۵۶ مردادم