تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 316
مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانہ کے بہت سے واقعات ان کو یاد تھے۔رات کو عام طور پر نماز عشاء دیر سے ادا کرتے تھے۔اکثر گیارہ ساڑھے گیارہ بج جاتے۔لیکن کبھی یہ نہیں ہوا کہ تلاوت قرآن شریف کیے بغیر سوئے ہوں۔نمازیں بہت لمبی اور خشوع خضوع سے ادا کر تے تھے۔یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کی فیض صحبت کا اثر تھا۔افسوس ہے کہ ایسے ماحول میں جکڑ کر رہ گئے۔کہ عملی خدمت دین نہیں کر سکے۔سب سے زیادہ افسوس اس امر کا ہے۔کہ ان کی میت کو تابوت میں دفن نہیں کیا گیا۔اور جنازہ بھی احمدی نہ پڑھ سکے۔وفات کے وقت صرف ایک احمدی پرانا ملازم تھا۔وہ بھی پاکستان سے مالیر کوٹلہ گیا ہوا تھا۔دریں حالات وہ احباب کی دعاؤں کے بہت زیادہ محتاج ہیں۔تاکہ جو کی جنازہ نہ ادا کرنے میں رہ گئی ہے۔آپ کی پر خلوص دعاؤں سے پوری ہو جائے۔ان کا سیم ایک کو ریتی ہیں مدفون ہے۔شاید کسی احمدی کو دوہاں جا کہ دعا کا موقع ہے۔غیر احمدیوں کو قبور پر جا کہ دعا کرنے کی عادت نہیں۔اس لیے جو احباب اُنسے محبت رکھتے ہیں۔وہ اس قدر دعا کریں کہ یہ کسر پوری ہو جائے۔پہلے حضرت میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں والے و ولادت له : بیعت شده در بمطابق روایت حضرت مصلح موعود وفات نوبر ۱۹ آپ کا اصل وطن قادیان کے ماحول میں واقع ہر سیاں کا گاؤں ہے۔جو لکھوں سے قریب ہے۔له الفضل ۲۳ نومبر ۹۵۶ مت بنا ت الفضل ۲۵ نومبر ۱۹۹۹ ۲۳ آپ کا نام الحکم ۲ اگست ۱۹۰۳ء کے ملا کی فہرست مبالکین میں بھی شائع شدہ ہے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی بیعت کی تقریب میں موجود تھے اور ڈائری نویس بزرگ نے آپ کا نام بھی شامل کر لیا۔تاریخ احمدیت جلد دوم م۳۱ پر آپ کے بیان (مندرجہ رجبر روایات جلد نمبر ۱۳ ۲۵ ، من ۲ ) کی روشنی میں آپ کا سال بعیت ۱۸۹۶ د لکھا گیا ہے۔مر تحقیق سے یہ امر صحیح ثابت نہیں ہوا۔وجہ یہ کہ حضرت میاں فضل میر صاحب کے بیان میں جلسہ ۶۱۸۹ پر بیعت کا ذکر ہے حالانکہ اس سال جلسہ۔عظم مذاہب لاہور کے باعث قاریان میں کوئی جلسہ سالانہ نہیں ہوا تھا۔اس جہان میں یہ بھی لکھا ہے کہ آپ نے جلسہ ۱۸۹۶ء کے معا بعد جب دربارہ ربیعت کی تو حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب دیر اسی ایک