تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 278
PLA - تقریر سیر روحانی ( قرآنی باغات) حضرت مصلح موعود نے اپنی اس پر معارت نظریہ کا آغا نہ اس نکنہ معرفت سے کیا کہ اسلام کی بنیاد توحید خالص ہے اور سورہ اخلاص اس توحید کا معیار ہے۔اس کے بعد حضور نے قرآن کریم کے اس بے مثال انکشاف کی تفصیلات بیان فرمائی کہ صرف خدا ہی احد ہے باقی ہر چیز خواہ پھل ہوں یا زمین در آسمان یا باغات سبھی کا جوڑا ہے۔مادی اعتبار سے بھی اور روحانی اعتبار سے اس مضمون کو بیان کرنے کے بعد حضور نے محمدی باغات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔امحمدی باغوں میں سے ایک پوداحسن بصر کی گا لگا۔ایک جنید بغدادی کا لگا۔ایک سید عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ لیہ کا گلہ ایک شبلی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔یک ابراہیم ادھم رحمہ اللہ علیہ نگاہ ایک محی الدین ابن عربی صاحب رحمہ اللہ علیہ کا لگا۔ایک امام غزالی رحمہ اللہ علیہ کا گا۔ایک ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ لگا۔ایک شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کا لگا۔ایک بہا الدین صاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک معین الدین صاحب چشتی رحمہ اللہ علیہ کا لگا۔ایک سلیم چشتی رحمہ اللہ علیہ کا گا۔ایک قطب الدین صاحب بختیار کا کی حمہ اللہ علیہ کا گا۔ایک فرید الدین صاحب گنج شکر رحمہ اللہ لیہ کا لگا۔ایک نظام الدین صاحب اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کالگا۔ایک حضرت باقی باللہ رحمہ للہ علیہ کالگا۔ایک داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک مستند صاحب سرہندی رحمتہ اللہ علیہ کا لگا۔ایک شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کا لگا۔ایک خواجہ میر ناصر رحمتہ اللہ علیہ کا لگا۔ایک خواجہ میر درد رحمتہ اللہ علیہ کا لگا۔ایک سید احمد صاحب بریلوی رحمتہ للہ علیہ کا لگا۔اور سب سے آخر میں باغ محمدی کی حفاظت کرنے والے درخت حضرت کیسے ہو ٹوڑ کا پودا لگا ب کو خود مسلمانوں نے بدقسمتی سے کاٹ کر چاہا کہ محمدی باغ میں لوگ گھس جائیں، بکریاں اور سر بھیڑیں گھس جائیں۔اور محمدی باغ کو تباہ کر دیں مگر وہ پور، اس نشان کو تھا کہ اس نے کہا اے اسے آنکہ سوئے من بدر وبدری بصد بہتر انه با عتبان بترس که من شارخ مترم له اس شخص جو کہ کلہاڑے لے کر میرے کاٹنے کے لیے دوڑا آرہا ہے۔میرے باغبان خدا سے یا محمد رسول اللہ سے ڈر کہ میں وہ شاخ ہوں جس کو پھل لگے ہوئے ہیں اگر تو مجھے کاٹے گا تو محمد رسول اللہ کا پھل کٹ جائے گا اور نتیجہ یہ ہو گا کہ محمد رسول اللہ کا باغ بے شریرہ جائیگا۔پس تو مجھے له الا الہ اوہام حصہ اقول (طبع اقول ص ۱۶۲ ! !