تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 277
میں داخل کر دے گا یا گلگت میں داخل کر دے گا اس حیرت میں پاکستان گورنمنٹ کچھ نہیں کرتی۔ہیں اپنی جماعت کو ایک تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج جب دعائیں ہوں گی تو کشمیر کے متعلق بھی دعائیں کریں۔دوسرے میں ان کو تسلی بھی دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سامان نرالے ہوتے ہیں میں جب پارٹیشن کے بعد آیا تھا تو اس وقت بھی میں نے تقریہ دن میں اس کی طرف اشارہ کیا تھا مگر گورنمنٹ نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا اسب نظر آرہا ہے کہ وہی باتیں جن کو میں نے ظاہر کیا تھا وہ پوری ہو رہی ہیں۔یعنی پاکستان کو جنوب اور مشرق کی طرف سے خطرہ ہے۔لیکن ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ ہندوستان کو شمال اور مشرق کی طرف سے شدید خطرہ پیدا ہونے والا ہے اور وہ خطرہ ایسا ہو گا کہ باوجود طاقت اور قوت کے ہندوستان اس کا مقابلہ نہیں کریگا اور روس کی ہمدردی بھی اس سے جاتی رہے گی سو دعائیں کرو اور یہ نہ سمجھو کہ ہماری گورمنٹ کمزور ہے یا ہم کمزور ہیں خدا کی انگلی اشارے کر رہی ہے اور میں اسے دیکھ رہا ہوں نعرہ ہائے تمہیں) للہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے گا کہ روسی اور اس کے دوست ہندوستان سے الگ ہو جائینگے اس تقریر کے بعد جو حالت یو۔این۔اد کو پیش آئے ان سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے بہت سے دوست پاکستان کو دے دیئے ہیں۔مرتب) اوراللہ تعالی ایسے سامان پیدا کرے گا کہ امریکہ یہ محسوس کرے گا کہ اگر میں نے جلد ہی قدم نہ اٹھایا تو میرے قدم نہ اٹھانے کی وجہ سے روس اور اس کے دوست پیج میں گھس آئیں گے۔انعرہ تکبیر) پس مایوس نہ ہوا اور خدا تعالیٰ پر توکل رکھو اللہ تعالی کچھ عرصہ کے اندر ایسے سامان پیدا کردے گا۔آخر دیکھو یہودیوں نے تیرہ سو سال انتظار کیا اور پھر فلسطین میں آگئے مگر آپ لوگوں کو تیرہ سو سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا ممکن ہے تیرہ بھی نہ کرنا پڑے ممکن ہے دس بھی نہ کہنا پڑے اور اللہ تعالیٰ اپنے برکتوں کے نمونے تمہیں دکھائے گا۔(نعرہ ہائے تکبیر ) سلہ ۴ تقریر زیر عنوان خلافت حقه اسلامی گورنر اور دسمبر ۱۹۵۶ء اس کا ذکر پچھلے باب رضہ میں آچکا ہے۔به روزنامه الفضل ریوه ۱۵ مارچ ۱۹۵۷ء ص ۳ - ۴ : سے اس کا پہلا ایڈیشن الشركة الاسلامیہ ربوہ نے اور دوسرا نظارت اشاعت لیچر و تصنیف ربوہ نے شائع کیا۔