تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 267 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 267

کرنا چاہتا ہے پس نہیں یہ فکر نہیں کہ دنیا میں اسلام کیسے پھیلے گا اسلام تو جلد یا بدیر ہر حال پھیل کر رہے گا ہمیں فکر ہے تو اس بات کا ہے کہ اسلام کو پھیلانے والے کہاں سے آئیں گے آج دنیا کا اربوں ارب انسان اسلام کا محتاج ہے اور ان کی اس احتیاج کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں منتخب کیا ہے ہم اس فرض سے اسی صورت میں عہدہ برآ ہو سکتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں میں خدمت دین اور تبلیغ اسلام کا جوش پیدا ہو وہ صوفیائے کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خدمت اسلام کے لیے باہر نکلیں اور دور دراز علاقوں میں پھیل جائیں یہاں تک کہ دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہ رہے جہاں اسلام کی تبلیغ نہ ہورہی ہو اگر یہ بند ہ ہمارے نوجوانوں میں پیدا ہو جائے تو پھر اربوں لوگ احمدیت میں داخل ہوں گے اور دنیا میں اسلام پورے طور پر غالب آجائے گا۔خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا دنیا کی عربیت کوئی عزت نہیں اصلی اور حقیقی عزت دین کی خدمت میں مضمر ہے جو شخص بھی قدرت دین کو اپنا مطمع نظر بناتے ہوئے دنیا کے دور دراز علاقوں تک اسلام کا پیغام پہنچائے گا اور اپنی زندگی اس فریضے کی ادائیگی کے لیے وقف کیے رکھے گا اس کا نام قیامت تک زندہ رہے گا اس عزت کے آگے دنیوی شہرت یا عزت کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔حضور نے مزید فرما با دین ایک بادشاہت ہے جو زور سے حاصل نہیں کی جا سکتی بلکہ اس کا ملنا الله تعالیٰ کے فضل پر مصر ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کیا ہے اسے یہ بادشاہت مل گئی ہے سینے۔حضرت مصلح موعود کو نومبر ۱۹۵۶ ء کے آغاز میں بذریعہ خواب ] ایک ابہامی دعا پڑھنے کی تحریک سند یہ ذیل دفتر التقاء ہوئے ہم قدم قدم پر خدا مندرجہ پہ تعالٰی کی طرف توجہ کرتے ہیں اور اس کی رضا کی جستجو کرتے ہیں ، حضور نے ۶ ارنومبر ۱۹۵۶ء کے خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو تحریک فرمائی کہ دوست اپنی دعاؤں میں یہ فقرے کثرت سے پڑھیں ان کی دعائیں زیادہ قبول ہوں گی۔چنانچہ فرمایا :- سه روز نامه الفضل یوه ۲۵ نومبر ۱۹۵۶ء صفحه ۸