تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 268
PYA مجھے بتایاگیا ہے کہ اگر یہ فقرے ہماری جماعت کے درست پڑھیں گے تو اُن کی دعائیں زیادہ قبول ہونگی میں نے بعد میں ان پر غور کیا اور سمجھ لیا کہ اس میں واقعہ میں دعائیں قبول کرنے کا ایک گڑ بتا یا گیا ہے۔ہم قدم قدم پر خدا تعالے کی طرف توجہ کرتے ہیں" >> کے معنے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر فعل کے وقت خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارا یہ فعل مبارک ہو جائے اب یہ سیدھی بات ہے کہ جو شخص اپنے ہر فعل کے وقت خدا تعالے سے دعائیں کرتا چلا جائے گالا زنا اس کی دعائیں زیادہ قبول ہوں گی۔کیونکہ قدم قدم سے مراد چلنا تو نہیں ہو سکتا اس سے یہی مراد ہے کہ ہماری ز زندگی میں جو بھی نیا کام آتا ہے اس میں ہم خدا تعالے کی طرف توجہ کرتے ہیں کہ اے خدا تو ہم پر اپنی رحمت اور فقتل نازل کرا در جو شخص اپنی زندگی کے ہر نئے کام میں خدا تعالیٰ سے دعا کرے گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کھانا کھاؤ توسیم اللہ کہہ تو کپڑا پہنے لگو تو بسم اللہ کہو کھانا کھا لو توالحمدلله کہو۔نیا کپڑا پہن لو تو الحمد للہ کہو کہ خدا تعالے نے یہ کپڑا مجھے پہنایا ہے۔گویا آپ نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم خدا تعالے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا موجب ہے اور برنی نعمت کے ملنے پر الحمد للہ کہنا بھی خدا تعالیٰ کو متوجہ کرنے کے مترادف ہے گویا ہم قدم قدم پر خدا تعالیٰ کیطرف توجہ کرتے ہیں اور جب ہم اپنے ہر کام میں خدا تعالے کی طرف توجہ کریں گے تو لازمی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کہے گا کہ میرا یہ بندہ تو کوئی کام میری مدد کے بغیر نہیں کرنا چاہتا اور وہ لازماً اس کی مددکرے گا پھر دوسرا فقرہ ہے " اور اس کی رضا کی جستجو کرتے ہیں اس کو پہلے فقرے کے ساتھ ملائیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم ہر کام میں دیکھ لیتے ہیں کہ اس میں خدا تعالیٰ کی رضا ہے یا نہیں اور اگر ہر کام کے کرتے وقت انسان خدا تعالیٰ سے دعا کرے اور ہر کام کے متعلق سوچے کہ اس میں خدا تعالیٰ ہے یا نہیں تو سیدھی بات ہے کہ اس کی کامیابی اور اس کی دعاؤں کی قبولیت میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کیونکہ بجو شخص خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے کوئی کام کرے گا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی مدد نہ کرے وہ تو خدا تعالے کا کام ہوگیا بندے کا کام ہو تو خدا تعالیٰ کہ بھی سکتا ہے کہ یہ تیرا کام ہے۔تو آپ کر۔مگر جب وہ کام خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کرنا چاہتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ یہ نہیں کہے گا کہ یہ تیرا کام ہے تو آپ کہ بلکہ وہ کہے گا کہ یہ تو میرا کام ہے اسے میں ہی کروں گا۔باقی رہا یہ کہ یہ تو دو دھرے ہیں ان کا دعاؤں کی قبولیت کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ اس کا