تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 264 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 264

۲۶۴ تھیں۔مجھے یاد ہے کہ جب میں پہلی دفعہ مکرم شناسی حسن صاحب کے ہاں حاضر ہوا تو ان کی اہلیہ صاحبہ نے ایک ماں کی طرح عاجز کے ساتھ شفقت اور محبت کا سلوک فرمایا۔آخری عمر میں علالت طبع کے باعث - چل پھر نہ سکتی تھیں تاہم مجھے یا د ہے کہ ایک بار جب میں ان کے ہاں حاضر ہوا تو کرم شناسی صاحب کو آواز دے کر کہنے لگیں کہ شمس کو دودھ والا قہوہ تیار کرکے ہیں۔ان کی اس مہمان نوازی کو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔علالت طبع کے باعث مہمان کا اس قدر خیال رکھنا یہ بتا تا ہے کہ مرحومہ کن اوصاف حمیدہ کی مالک تھیں۔آپ نے بھی بیعت کی ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے آمین۔خاکسار جب بھی از میر مکرم شناسی حسن کے مکان پر حاضر ہوا ان کو قرآن مجید کے مطالعہ میں مصروف پایا۔ایک بڑے میز پر چھ سات تراجم رکھے ہوتے ہیں اور درمیان میں حضرت مصلح موعود۔۔۔۔۔کی تفسیر کے انگریزی ترجمہ پر مشتمل ترجمہ قرآن رکھا ہوا ہوتا ہے اور ہروقت تقابلی مطالعہ میں مصروف رہتے ہیں۔بہت اعلی درجہ کی انگریزی جانتے ہیں۔اور مکرم چوہدری محمد ظفر اللہ خان مرحوم کی انگریزی میں مہارت کے معترت ہیں۔آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ مکرم بچوہدری صاحب کی انگریزی اتنی اعلیٰ ہے کہ انگریزوں کو سبق دے سکیں۔مکرم شناسی صاحب کا علم بہت وسیع ہے۔تبلیغ کا بے حد شوق ہے۔ایک بارخاکسار ماریشس کے ایک غیر از جماعت طالب علم کو ساتھ لے کر مکرم شناسی صاحب کے ہاں گیا۔آپ نے ماریشس کا نام سنتے ہی بتا دی کہ فلاں جگہ پر ایک خوشنما جزیرہ ہے اور براعظم افریقہ میں شامل ہے۔اور اس کے ساتھ ہی تبلیغ شروع کر دی اور بتایا کہ اسلام کی صحیح جوش اور جذبہ کے ساتھ کوئی جماعت خدمت کر رہی ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہے۔اس طالب علم دوست نے بعد میں حیرت کے ساتھ مجھے بتایا کہ ماریشس کا اکثر لوگ نام تک نہیں جانتے لیکن مکرم شناسی صاحب کی معلومات اس چھوٹے سے ملک کے بارہ میں بے حد وسیع ہیں۔کرم شناسی صاحب انگریزی کے علاوہ فارسی بھی بہت عمدہ جانتے ہیں اور کسی حد تک عربی زبان سے بھی آشنا ہیں۔آپ کو فارسی اور ترکی (عثمانی) زبان کے سینکڑوں اشعار آج بھی زبانی یاد ہیں۔سیدنا حضرت مصلح موجود کے تجر علی پر انگشت بدنداں ہیں اور خلافت احمدیہ کے خدائی اور عاشق ہیں۔۔۔۔۔آپ نے