تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 258
۲۵۸ در واندوں کو تیس سال تک بند کیے رکھا۔ان کے بڑے اثر کی وجہ سے ملک میں چالیس سال تک ریلیوں کا نظام محض اس لغو غذر کی بناء پر قائم نہ ہوسکا کہ یہد کا نزوں کی ایجاد ہے، مختصر یہ کہ ہر مفید اور کار آمد چیز کو کا فروں کی ایجاد کہ کر رد کیا جاتا رہا۔حالانکہ یہ لوگ خود بہت سے مواقع پر روس اور مغرب کی دوسری شہنشا بیت پسند طاقتوں کے آلہ کار بنے یہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک عام تعلیم یافتہ ترک کے ذہن میں ماں کے خلاف عدم اعتماد کا جو جذبہ پایا جاتا ہے۔اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ایک عام تعلیم یافتہ ترک کمیونزم سے نفرت کرتا ہے۔لیکن دوسرے مسلم ممالک کے تعلیم یافتہ طبقہ کے برخلاف وہ مغربی طرز زندگی کا عموماً اور امریکی طرز زندگی کا خصوصاً پر جوش مداح اور نقل ہے۔میں ترک عوام میں مذہبی بیداری کا اوپر ذکر کر چکا ہوں۔ملاؤں کے سابقہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے باقی ماندہ چند جاہل لوگ موجودہ مذہبی بیداری کی قابل قدر خریک کے لیڈر بننے کی کوشش میں ہیں۔اسی طرح ترک عوام کے دلوں میں اسلام خواہ کتنا ہی راسخ کیوں نہ ہو۔وہ گر کر اس سطح پر آپ کا ہے۔کہ بعض کلمات طوطے کی طرح رطے کر دہرا دیئے جاتے ہیں۔اور عبادت کے طور پرشینوں کی طرح بعض بے روح حرکات کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔حالانکہ اسلام کی تعلیم اور اس کے پیش کردہ مطمح نظر کا صحیح علم حاصل کیے بغیر حقیقی اسلام ہرگز قائم نہیں ہو سکتا۔اسی لیے میں بڑی شدت اس بات کا قائل ہوں کہ ٹیم کے تمام اسلامی ممالک میں قرآن مجید اور احادیث کی کتب وہاں کی اپنی زبانوں میں سستے داموں دستیاب ہونی چاہئیں۔انتیمی سال کے عرصہ میں ترکی زبان میں قرآن مجید کے تین تراجم شائع ہو چکے ہیں۔اور اب مذہبی امور کے ڈائرکٹر جنرل قرآن مجید کا ایک معیاری ایڈیشن مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔ادھر مشکل یہ ہے کہ ترک امام اور مؤذن مجموعی لحاظ سے اتنے تربیت یافتہ نہیں ہیں۔کہ وہ اپنے فرائض کو کیا حقہ ادا کر سکیں۔ان میں سے ایسے افراد جو قرآن مجید کے عربی متن کے معنے سمجھ سکیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔یہ امر اور بھی زیادہ افسوسناک ہے کہ ان کی تعلیم وتربیت کے لیے ادارے مفقود ہیں۔ملک بھر میں دینیات کی تعلیم کاجو واحد شعبہ ہے وہ اس کام کے لیے میسر نا کافی ہے۔اسے عظیم استاد ان امور کو بیان کرنے میں میں نے آپ کا بہت سا وقت لے لیا ہے۔اس