تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 257
۲۵۷ انقره ۲۰ نومبر ۱۹۵۶ء سید نا حضرت خلیفة السيح ! السلام علیکم در هفته باشد و به کا تها یہ میری بڑی خوش قسمتی ہے کہ میاں حال ہی میں میری ملاقات مہندوستان کے ایک لائق مسلمان عالم سے ہوئی ہے۔جس نے مجھے احمدیت اور آپ کی اسلامی خدمات سے آگاہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے۔کہ وہ آپ کی عمر میں برکت ڈالے۔اور آپ عرصہ دراز تک اس کے دین کی خدمت کا فریسینہ ادا کرتے چلے جائیں۔میں ندامت کے ساتھ اس امر کا اعتراف کرتا ہوں۔کہ اس مہندوستانی دوست کے ساتھ ملنے سے قبل تک احمدیت کے متعلق مجھے کچھ زیادہ علم نہ تھا۔میں یقین رکھتا ہوں۔کہ احمدیت ہی وہ محقیقی اسلام ہے جو ترقی کا علمبردار ہوتے ہوئے بیسویں صدی کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔آپ دنیا کے سامنے جو پیغام پیش کر رہے ہیں۔وہ آپ کی تصنیف " دیباچہ انگریزی ترجمہ القرآن کے ذریعہ مجھ تک پہنچا ہے۔یہ دیباچہ ایک نہایت عالمانہ کتاب ہے جو خاص خدائی تائید کے ماتحت لکھی گئی ہے۔اس کا مطالعہ بہت سے امور کے متعلق شبہات دور کرنے کا موجب ہوا۔آپ کی اجازت سے میں ترکی کی مذہبی حالت جیسا کہ ماضی اور حال کے آئینہ میں اُسے میں دیکھتا ہوں۔آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔اب ترک عوام میں مذہبی بیداری کے آثار نمایاں ہوتے جارہے ہیں تاہم اعلی تعلیم یافتہ لوگ ابھی تک مذہب میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔کیونکہ وہ اسلام کو بہت سی ایسی برائیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔کہ جو اُن کے ملک کی ترقی میں مردک ثابت ہوتی رہی ہیں۔حالانکہ اس کا سارا الزام ان ملاؤں پر عائد ہوتا ہے۔کہ جو تا وقتیکہ اتا ترک کے ہاتھوں رونما ہونے والے انقلاب نے اُن کے اللہ کو زائل نہ کر دیا۔رجعت پسندانہ ذہنیت کے آلہ کار بنے رہے۔اسلام کے متعلق تعلیم یافتہ طبقہ کی معلومات لاطینی رسم الخط را سچ ہونے کے بعد سے دن بدن کم ہوتی چلی گئیں۔حتی کہ اب نہ ہونے کے برابہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس طبقہ کی نگاہ میں اسلام اور ملاں ہم محنے الفاظ ہیں۔ملاؤں سے انتہائی طور پر نفرت کرنے میں ترکی کی تعلیم یافتہ طبقہ کو معذور سمجھنا چاہیئے کیونکہ یہ ملاں ہی تھے۔جنہوں نے گزشتہ صدی کے نصف اواخر میں مغربی علوم کی ترویج کے لیے استنبول یونیورسٹی کے