تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 256 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 256

۲۵۶ خلاف نفرت کا اظہار کرنے کے علاوہ اہل مصر کے ساتھ گہری ہمدردی ظاہر کی گئی اور دعا کی گئی کرحملہ آوروں کا مقابلہ کرنے میں اہل مصر تو سر توڑ جد وجہد کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس میں انہیں کامیاب فرمائے اور اپنی خاص امید ونضرت سے نوازے۔نیز انڈونیشیا کے تمام سلمان بھائیوں سے استدعا کی وہ بھی مر کی کامیابی کیلئے اللہ تانی کے حضور دعائیں کریں تاریں مزید لکھا گیا ہم یقین رکھے ہیں کہ اگر روئے زمین کے مسلمان پورے خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان حملہ اور اقوام بنے انگریز وں۔یہودیوں اور فرانسیسیوں پر عذاب نازل کرے گا۔نیز انڈونیشیا کی حکومت سے پر زور درخواست کی گئی تھی کہ وہ اہل مصر کی امداد کر نیکے لئے بر وقت اور فوری قدم اٹھائے۔بالخصوص ایسے بھی تم پہ اس اسلامی ملکی امداد کرنا ضروری اور لازمی ہے کہ ۱۹۴۶ء میں جمہوریہ انڈونیشیا کے قیام پر سب سے پہلے مصر نے ہی ہماری مملکت کو تسلیم کیا تھا اور انڈو نیشیا کی جدوجہد آزادی میں مصر نے ہمیں ہر قسم کی اخلاقی اور مادی امداد بہم پہنچائی تھی۔تار کے آخر میں مزید لکھا گیا که بالآخر ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اہمیت مسلمہ کی خود ہی حفاظت فرمائے۔اور اہل مصر کے دلوں کو مضبوط اور طاقتور کرے۔آمین ہمدردی اور دعا کے ساتھ اس مخلصانہ پیغام کے جواب میں جمہوریہ مصر کے صدر جناب جمال عبد الناصر کی طرف سے حسب ذیل برقی پیغام موصول ہوا " جناب را دین ہدایت صدر جماعت احمدیہ انڈونیشیا ، آپ کے مشفقانہ پیغام نے مجھ پر گہرا اثر کیا ہے میری طرف سے دلی اور پر خلوص شکریہ قبول فرمائیں۔جمال عبد الناصر سے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں ترکی کے ایک اساس سال کا اہم واقعہ یہ ہے کہ جمہوریہ ترک کے ایک فاضل محقق جناب شناسی حسن سی بیه فاضل ملحق کو مکتوب عقیدت اور قبول حمیت صاحب کو حضرت مصلح موعود کی معرکہ آمادہ رو تالیف " دیباچہ تفسیر القرآن (انگریزی) کا مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا۔جناب شناسی صاحب نے اس کتاب سے متاثر ہو کہ حضور کی خدمت میں انقرہ سے ایک مفصل مکتوب لکھا جس کا اردو تر جمہ یہ ہے مه روزنامه الفضل ٢٠ نومبر ١٩٥٦ ء مرا