تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 247
۲۴۷ جائے تو اس سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔بلکہ شیطان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک خاص ذہنیت کی ضرورت ہے جس کو لا حول ولا قوة الا باللهِ الْعَلِي الْعَظِيمِ بنارے کے اندر پیدا کر دیتا ہے اور جب یہ ذہنیت پیدا ہو جائے تو شیطان انسان کے قریب نہیں آسکتا اور وہ ذہنیت یہ ہے کہ بے شک انسان بڑا کمزور اور ناتواں ہے لیکن خدا تعالی بڑی طاقتوں والا ہے اس کے اندر یہ طاقت ہے کہ وہ ہم سے نیکیاں کرائے اور اس کے اندر یہ طاقت بھی ہے کہ وہ ہمیں بدیوں سے محفوظ رکھے۔جب یہ ذہنیت انسان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے تو خدا تعالیٰ اسے اپنی گود میں اٹھا لیتا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی گود میں بیٹھا ہو شیطان کا اس پر حملہ کامیاب نہیں ہو سکتا اور اس طرح وہ اس ذہنیت کے پیدا ہونے کے نتیجہ میں شیطان کے حملوں سے محفوظ ہو جاتا ہے تو لا حول ولا قوة الا باللہ ایک بڑی اہم اور قیمتی دعا ہے جو آپ کے کام آئے گی۔جب فرقان بٹالین کشمیر کے محاذ یہ کام کر رہی تھی اس وقت مجھے ایک ضروری کام کے سلسلے میں محاذ یہ جانا پڑا۔جب میرا قیام ختم ہو گیا تو میں نے واپس آنے کا زیادہ کیا سڑک ٹوٹی ہوئی تھی۔مگر ان دنوں چونکہ لڑائی کا کام تھا اور لڑائی کے دنوں میں انسان کی ذہینت تیر ہو جاتی ہے فوراً یہ خیال آیا کہ مڑک ٹوٹی ہوئی ہے تو کیا ہوا نہر کی پڑی تو ہے سرکاری نقشہ دیکھنے سے معلوم ہوا کہ نہر کی پڑی سڑک کے ٹوٹے ہوئے حصہ سے پرے جا کر ٹرک سے مل جاتی ہے چنانچہ ہم سڑک کی بجائے نہر کے راستے واپس ہوئے رسول ہیڈ کے قریب گیٹ بند تھا لہذا ہمیں موٹر کھڑا کرنا پڑا جب گیٹ کھلا تو موٹر فیل ہو گئی وہ سٹارٹ نہیں ہوتی تھی۔ہمارے پاس نہ اوزار تھے اور نہ پڑی پر ٹریفک تھی کہ کسی آنے جانے والے کی مدد لی جاسکے۔کاربوریٹر میں میل جم گئی تھی میں کی وجہ سے وہ کام نہیں کر رہا تھا۔اس وقت میرے ذہن میں یہ دعا آئی بسم الله تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ لا حول ولا قوة الا باللهِ الْعَلِي الْعَظِيمِ۔اور میں نے خیال کیا کہ بے شک اس وقت موٹر فیل ہو گئی ہے اور ہم میں طاقت نہیں کہ اسے سفر کے قابل بنا سکیں گر اللہ تعالے میں تو طاقت ہے کہ اس سے کام سے سو ہمیں اس کی طرف توجہ کرنی چاہیئے اور اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔کہ وہ نہیں مصیبت سے نکالے چنانچہ میں نے اپنے سامنیوں سے کہا کہ