تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 248 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 248

مجھ سے کوئی بات نہ کریں اور میں نے پوری توجہ کے ساتھ اس دعا کو پڑھنا شروع کیا اس کے بعد موٹر کو دھکا دیا گیا تو وہ سٹارٹ ہوگئی۔میں تمام راستہ یہی دعا پڑھتا رہا اور کسی سے کوئی بات نہ کی۔اور موٹر سارا راستہ چلتی رہی۔کہیں نہ رکی۔یہاں تک کہ ہم دین باغ لاہور پہنچ گئے اور موٹر وگیراج میں کھڑا کر دیا بعد میں وہ موٹر اس وقت تک گیراج سے نہ نکلی سب تک کہ ایک ماہرمستری نے اسے چنے کے قابل نہ بنا دیا۔اب دیکھو اس دعا کی برکت ملی کہ ہم با وجود با سر بے کس دبلے نہیں ہوتے کے رسول ہیڑے لاہور تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ورنہ موٹر کام کرنے کے قابل نہ تھی۔سو یہ دعا بڑی برکت والی ہے۔مجھے خیال آیا کہ میں دعا آپ کو بتا دوں تا آپ بھی روزانہ زندگی میں اس سے فائدہ حاصل کریں “ تیسرا نکتہ خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے طفیل جہاں ہمیں ہی مو قع دیا ہے کہ ہم اس کے ساتھ تعلق پیدا کر سکیں وہاں نہیں یہ سبق بھی دیا ہے کہ بنی نوع انسان کی اتنی مدد کرو کہ اور کسی انسان نے نہ کی ہو۔آنحضرت صلعم کی سیرت کا ایک واقعہ اس پر وضاحت سے روشنی ڈالتا ہے۔بدر کی جنگ کو خدا تعالیٰ نے فرقان سے تعبیر کیا ہے۔اور کہا ہے کہ وہ کفر اور ایمان میں فرق کرنے والا دن ہے اور یہ نام اسے قرآن کریم میں خدا تعالے نے دیا ہے اس دن اللہ تعالیٰ نے کفر کی طاقت کو توڑ دیا اور اسلام کے نام کو امتیاز کے ساتھ قائم کیا۔ایک طرف کفار اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ اور اپنے لاڈ ولشکر کی مدد سے مسلمانوں کو جو قلیل تعداد میں تھے اپنے زعم میں صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے لیے آئے تھے۔اور دوسری طرف وہ صحابہ تھے جو کمز ور نانواں تھے۔تعداد میں کم تھے۔اور ان کے پاس کفار کے مقابلہ میں جنگی سامان بھی نہیں تھا۔ان میں سے اکثر کو کفار نے طرح طرح کی تکلیفیں دی تھیں عرض بدر کے روز صحابہ کی حالت کفار کے مقابلہ میں بہت زیادہ کر دور تھی اور بظا ہر حالات ان میں مقابلہ کی سکت نہیں تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتوں کے شکر نازل کیے اور انہیں کہا کہ اس قوم کی مدد کرو۔اور مقابل شکر پر اسے فتح اور کامرانی حاصل کرنے میں مدد دو۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فرشتوں کی مددسے اس دن مسلمانوں