تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 246 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 246

اصلاۃ والسلام کی تمام کتب معادت کا ایک خزانہ اپنے اندر رکھتی ہیں اس کا ایک حصہ تو ایسا ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ اپنے اندر بڑے اہم اور قیمتی مضامین کو لیے ہوئے ہے اور جب بھی حالات آپ کی توجہ اس طرف پھیر دیں یا اللہ تعالیٰ کا منشاء ہو کہ آپ کی توجہ اس طرف پھر جائے تو آپ کو نئے نئے مضامین سو جھیں گے دوسرا نکتہ ۲- قرآن کریم میں شیطان کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ ، علَيْهِ سُلْطَانُ میرے جو بندے ہوں گے اُن پر تو غلبہ نہیں پا سکتا۔گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی طرف شیطان کو یہ مسلنج دیا ہے کہ وہ ان پہ کبھی غلبہ حاصل نہیں کر سکے گا۔اس پر ملنے کو دیکھ کر انسان جو ضعیف اور کمزور ہے یہ خیال کرتا ہے کہ یہ چیلنج کیسے پورا ہو گا۔اس کو پورا کرنے کے لیے خدا تعالی کی طرف سے کسی ہدایت کا ملنا بھی ضروری ہے۔اور وہ ہدایت لا حولَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ KOUNG GALANGANم ہے۔یہ ایک دیوار ہے جو شیطان اور خدا تعا کے بندوں کے درمیان کھڑی کر دی گئی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہو تو شیطان انسان کے مقابلہ میں بہت طاقتور ہستی ہے جو خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر کہتا ہے کہ میں تیرے بندوں میں دائیں سے بائیں سے آگے سے پیچھے سے گھسوں گا اور انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔اس پر اگر انسان غلبہ حاصل کر سکتا ہے تو محض خدا تعالے کے فضل کے نتیجہ میں ہی کر سکتا ہے اور لَا حَوْلَ وَلَا تُوَ إِلَّا بِاللَّهِ العلي العظيم وہ ہتھیار ہے جو شیطان کے مقابلہ کے لیے خدا تعالیٰ نے انسان کو دیا ہے۔لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِي الْعَظِيہ کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ کوئی منتر یا ٹونہ نہیں کہ صرف منہ سے یہ فقرہ وہرا کر شیطان کا مقابلہ کیا جا سکے۔اگر ایک کرو نہ دفعہ بھی لا حول ولا قوة الا باللهِ الْعَلِي الْعَظِيمِ پڑھا جائے تو قطعا یہ نہیں ہو سکتا کہ شیطان بھائی جائے اور نہ ہی یہ کوئی تعویز ہے جس سے ہاتھ پر باندھ لیا۔یا کاغذ پر لکھ کر اسے گھوٹ کر پایا ے سورۃ بنی اسرائیل : ۶۶