تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 241 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 241

۲۴۱ آپ لوگوں میں پائی جاتی ہے۔میں طرح اُن کے حواریوں کو انصار اللہ کہا گیا تھا۔اسی طرح مثیل مسیح موعود کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا ہے۔پھر آپ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے انصار کی بات بھی پائی جاتی ہے۔یعنے جس طرح انصار اللہ میں وہی لوگ شامل تھے جو آپ کے صحابہ تھے۔اسی طرح آپ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رفیق شامل ہیں۔گویا آپ لوگوں میں دونوں مثالیں پائی جاتی ہیں۔آپ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے رفیق بھی ہیں جنہیں انصار الله کہا جاتا ہے۔جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو انصارہ کہا گیا۔پھر جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عیسی علیہ السّلام کو اپنا متبع قرار دیا ہے اور ان کے صحابہ کو بھی انصاراللہ کہا گیا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کے ایک متبع کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کو بھی انصار اللہ کہا گیا ہے۔شاید بعض لوگ یہ سمجھیں کہ یہ درجہ کم ہے لیکن اگر چالیس سال اور گزر گئے تو اس زمانہ کے لوگ تمہارے زمانہ کے لوگوں کو بھی تلاش کریں گے اسلامی تاریخ میں صحابہ سے ملنے والوں کو تابعی کہا گیا ہے کیونکہ وہ صحابہ کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو گئے تھے۔اور ایک تبع تابعی کا درجہ ہے یعنی وہ لوگ جو تابعین کے ذریعے صحابہ کے ذریعہ ہوئے اور آگے صحابہ کے ذریعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے اس طرح تین درجے بن گئے ایک صحابی دوسرے تابعی اور تیرے تبع تابعی۔صحابی وہ جنہوں نے محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت سے فائدہ اٹھایا۔اور آپ کی باتیں سنیں۔تابعی وہ جنہوں نے آپ سے باتیں سننے والوں کو دیکھا اور تبع تابعی وہ جنہوں نے آپ سے باتیں سننے والوں کے دیکھنے والوں کو دیکھا دیوی عاشق تو بہت کم حوصلہ ہوتے ہیں کسی شاعر نے کہا ہے۔تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں مرا دل پھیر دے مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا یہ گر مسلمانوں کی محبت رسول دیکھو جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ فوت ہوئے تو انہوں نے آپ سے قریب ہونے کے لیے تابعی کا درجہ نکال لیا اور جب تابعی ختم ہو گئے تو انہوں نے تبع تابعین کا درجہ نکال لیا۔اس شاعر نے تو کہا تھا۔تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں۔میرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا