تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 240 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 240

۲۴۰ دو گروہ ہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفقاء اب بھی زندہ میں مگر اب ان کی تعداد بہت تھوڑی رہ گئی ہے صحابی اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو نبی کی زندگی میں اس کے سامنے آگیا ہو گو یا ز یادہ تر یہ لفظ انہی لوگوں پر اطلاق پاتا ہے جنہوں نے کی صحبت سے فائدہ اٹھایا ہو۔اور اس کی باتیں سنی ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نشر میں فوت ہوئے ہیں۔اس لیے کہ شخص بھی آپ کا صحابی کہلا سکتا ہے میں نے خواہ آپ کی صحبت سے فائدہ نہ اٹھایا ہو لیکن آپ کے زمانہ میں پیدا ہوا ہو اور اس کا باپ اسے استھا کہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کے سامنے سے گیا ہو لیکن یہ ادنی درجہ کا رفیق ہوگا۔اعلی درجہ کار نین وہی ہے جس نے آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھایا اور آپ کی باتیں سنیں اور جن لوگوں نے آپ کی صحبت سے فائدہ ا ا یا اور آپ کی باتیں سنیں ان کی تعداد اب بہت کم رہ گئی ہے اب صرف تین چار آدمی ہی ایسے رہ گئے ہیں جن کے متعلق مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح علیہ الصلواۃ و السلام کی صحبت سے فائدہ اٹھایا اور آپ کی باتیں سنی ہی ممکن ہے اگر زیادہ تلائم کیا جائے تو ان کی تعداد تیں چالیس تک پہنچ جائے اب ہماری جماعت لاکھوں کی ہے اور لاکھوں کی جماعت میں اگر ایسے میں چالیس رفقاء بھی ہوں تب بھی یہ تعداد بہت کم ہے۔اس وقت جماعت میں زیادہ تر وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایسے شخص کی بیعت کی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کا متبع تھا۔اور ان کا نام اسی طرح انصار اللہ رکھا گیا جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا تھا حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تو كَانَ مُوسَی وَ عِيْى حَيَّيْنِ سَمَاوَسِعَهُمَا إِلا إِتْبَاعِی اگر موسیٰ اور علیمی علیہما السلام میرے زمانہ میں نہ مندہ ہوئے تو وہ میرے متبع ہوتے۔غرض اس وقت جماعت کے انصار اللہ میں دو باتیں پائی جاتی ہیں ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ایک متبع اور میل کے ذریعہ اسلام کی خدمت کا موقع ملا اور وہ آپ لوگ ہیں۔گویا حضرت عیسی علیہ السلام کی مثال ا تفسیر ابن کثیر از حافظ عما والدین ابی الفداء اسمعیل بن عمرو بن كثير الفقرشی برحاشیه فتح البیان جلد ۲ ۳۲۶ مطبوعه المطبع الكبرى الميرية بولاق مصر الحمية سند ۱۳۰۰ حد الطبعة الاولى