تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 242
۲۴۲ گرمیاں یہ محدت ہوگئی ہے کہ تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں اور پھر ان کے چاہنے والوں کو بھی چاہوں اور پھر تیرہ سوسال تک برابر چاہتا چلا جاؤں انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا بلکہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم آپ کے چاہنے والوں کو چاہتے ہیں چاہے وہ صحابی ہوں تابعی ہوں۔تبع تابعی ہوں ا تبر تبع تابعی ہوں اور ان کے بعد یہ سلسلہ خواہ کہاں تک چلا جائے ہم کو وہ سب لوگ پیارے لگتے ہیں کہ ان کے ذریعہ ہم کسی نہ کسی طرح رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جاتے ہیں۔محدثین کو اس بات پر بڑا فخر ہوتا تھا کہ وہ تھوڑی سی سندات سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچے گئے ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ میں گیارہ بارہ رسا دیوں کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک جا پہنچتا ہوں۔آپ کو بعض ایسے اساتذہ مل گئے تھے وہ آپ کو گیارہ بارہ رادیوں کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتے تھے اور آپ اس بات پر بڑا فخر کیا کرتے تھے۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اتباع نے آپ کی صحابیت کو بارہ تیرہ درجوں تک پہنچا دیا ہے اور اس پر فخر کیا ہے۔تو آپ لوگ یا رفیق ہیں یا تابعی ہیں ابھی تبع تابعین کا وقت نہیں آیا۔ان دونوں دریوں کے ذریعہ اللہ تعالے نے آپ کو عزت بخشی ہے اس عزت کا میں کچھ اور لوگ بھی شریک ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انصار کا ذکر فرمایا ہے اور پھر ان کی قربانیاں بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھیں چنا نچہ جب ہم انصاری کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ایسی قربانیاں کی ہیں کہ اگر آپ لوگ جو انصار اللہ ہیں ان کے نقش قدم پر چلیں تو یقیناً اسلام اور احمدیت دور نہ در تک پھیل جائے۔اور اتنی طاقت پکڑے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کے مقابلہ پہ نہ ٹھہر سکے" ہے یاد رکھو تمہارا نام انصار اللہ ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے مددگار۔گویا تمہیں اللہ تعالیٰ کے نام کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ از لی اور ابدی ہے۔اس لیے تم کو بھی کوشش کرنے چاہیے کہ اہدیت کے مظہر ہو جاؤ تم اپنے انصار ہونے کی علامت یعنی خلافت کو ہمیشہ ہمیش کے لیے قائم رکھتے چلے جاؤ اه روزنامه الفضل ریوه ۲۱ مارچ ۱۹۵۷ء صفحہ ۳۲