تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 225 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 225

۲۲۵ کے ہو گئے ہیں جیسے پچھلی صفر سنٹر میں جب مار مار کر بعضی احمدیوں سے کہنایا گیا کیا حمدیت جھوٹی ہے تو ایک بوڑھے احمدی سے بھی ڈرا دھمکا کہ یہ کہلوا دیاگیا کہ میں تو بہ کرتا ہوں وہ لوگ اپنے " " مولوی کے پاس گئے اور کہنے لگے مبارک ہو ایک احمدی کو پھر سے ہم نے مسلمان کر لیا ہے وہ کہنے لگا تم بڑے بے وقوف ہو تم نے کچھ نہیں کیا۔وہ اسی طرح احمدی ہے۔جیسے پہلے تھا کہنے لگے نہیں ہم نے اس سے کہا تو یہ کہ تو اس نے فورا توبہ کرلی کہنے لگا گیا احمدی تو یہ نہیں کرتے وہ نور روزانہ تو بہ کرتے ہیں اس لیے اگر اس نے توبہ کی تو اپنے مذہب کے مطابق کی اگرتم سے ہوتو اسکو جاکر کہو کہ میرے پیچھے آکر نماز پڑھے تب سمجھا جائے گا کہ اس نے احمدیت سے توبہ کی ہے وہ لوگ پھر اس کے پاس گئے تھا تو وہ کمزور اور بوڑھا مگر اللہ تعالیٰ نے ایمانی عقل اسے دی ہوئی تھی جب دوبارہ لوگ اس کے پاس گئے تو اس نے کہا تو بہ تو میں نے کہ لی تھی پھر اب تم کیوں آئے ہو کہنے لگے ہمارے مولوی نے کہا ہے کہ تم میرے پیچھے آکر نماز پڑھو تب ہم مانیں گے کہ تم نے تو بہ کی ہے۔کہنے لگا یہ غلط بات ہے دیکھو نماز پڑھنے کے ستعلیق تو مرزا صاحب بھی کہا کرتے تھے۔وہ بھی یہی کہتے تھے کہ نمانہ پڑھو روزہ رکھو۔حج کرو۔زکواۃ رو - شراب نہ پیور - پوری نہ کرو۔جھوٹ نہ بولو۔میں نے سمجھا منھا اب تمہارے کہنے سے میں نے تو بہ کر لی ہے تو اب سب ممنوع کام جائز ہو گئے ہیں۔اب آئندہ شراب بھی پیئیں گے۔کنجریوں کا ناچ بھی کرائیں گے۔جھوٹ بھی بولیں گے۔بچوریاں بھی کریں گے۔لوگوں کا مال بھی کھائیں گے۔زکواۃ بالکل نہیں دیں گے۔نماز کے قریب نہیں جائیں گے لیکن تم پھر آگئے ہو نماز پڑھوانے اس کا کیا مطلب ہے پھر تو یہ کس بات سے تھی۔یہ بات جو اب تم مجھ سے کر دانا چاہتے ہو یہ تو مرزا صاحب بھی کرواتے تھے وہ لوگ مایوس ہو کر اپنے مولوی کے پاس گئے ادرا سے سارا قصہ سنایا۔اس نے کہا ئیں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ یہ لوگ بڑے چالاک ہوتے ہیں اس نے تمہیں دھوکہ دیا ہے تو بات یہی ہے کہ اگر واقع میں احمدی ہونے سے ارتداد ہوتا ہو تو خدا تعالیٰ ایک ایک شخص کے بدلہ میں ایک ایک قوم لے آئے لیکن لوگ جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص احمدی ہو جا تا ہے تو وہ اور بھی پکات مسلمان ہو جاتا ہے میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ اس علاقہ کا ایک غریب سا احمدی ہے اس کا سارا خاندان کثر غیر احمدی تھا جب وہ احمدی ہوا تو انہوں نے اُسے خوب مارا اور کہا تم کا فر ہو گئے ہو۔لیکن احمدی ہو جانے کے بعد اس میں پہنے ہونے کی عادت پیدا ہوگئی اور آہستہ آہستہ اس کے