تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 226 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 226

متعلق سارے علاقہ میں مشہور ہو گیا کہ یہ شخص سچ بولتا ہے اس علاقہ میں چوریاں بہت ہوتی ہیں اس کے بھائی بند جانور چرا لایا کرتے تھے جس شخص کی چوری ہوتی وہ وہاں آگرہ کہتا کہ اگر یہی شخص کہہ دے کہ تم نے چوری نہیں کی تو ہم مان لیں گے۔ورنہ ہم نہیں مانیں گے۔ایک دفعہ اس کے بھائی ایک بھینس چرا کر لائے سارے لوگ اکھٹے ہو گئے اور کہنے لگے کھڑا تمہارے ہاں نکلتا ہے۔بھینس تم چرا کر لائے ہو۔اس لیے بھینس دے دو۔انہوں نے کہا خدا کی قسم ہم نے بھینس چوری نہیں کی۔کہنے لگے تمہاری کون مانتا ہے تم جھوٹے اور دھو کے باز ہو فلاں شخص کو لاؤ وہ کہہ دے کہ تم نے چوری نہیں کی تو ہم مان لیں گے۔انہوں نے کہا اس کو ہم کیسے لائیں وہ تو ہمارے ساتھ ہی نہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک تم اسے نہیں لا ڈگے بات نہیں بنے گی۔چنانچہ وہ گئے اور اس احمدی کو خوب مارا۔اور کہنے لگے چل اور گواہی دے۔جب وہ باہر آیا تو کہنے لگے بتاؤ کیا ہم نے بھینس چرائی ہے وہ کہنے لگے چرائی تو ہے انہوں نے اُسے پہلے تو گھورا پھر واپس آکر خوب مارا اور کہنے لگے تم نے سچی گواہی کیوں دی وہ کہنے لگا جب بھینس مجھے نظر آرہی تھی تو ہیں کیسے کہتا کہ تم نے چوری نہیں کی آخر تنگ آکہ وہ باہر آئے اور کہنے لگے یہ تومرزائی کا فر ہے اس کی گواہی کا کیا اعتبار ہے تم ہماری بات سنو ہم قسم کھا جاتے ہیں انہوں نے کہا تم ہزار قسمیں کھاؤ ہمیں اعتبار نہیں یہ ہے تو کافر لیکن بولتا سچ ہے تو ساری دنیا مانتی ہے کہ یہ کافر بڑے بچے ہیں۔یہ کا فر بڑے نیک ہیں۔یہ جو بات کہیں گے صحیح کہیں گے۔پس حقیقت یہی ہے کہ عام مسلمان تو تو ہمیں پکے مسلمان سمجھتے ہیں صرف کچھ مولوی ہیں جو ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے اور ان مولویوں کی عوام کے مقابلہ میں تعداد کے لحاظ سے نسبت ہی کیا ہے مولویوی کی تعداد پاکستان میں پانچ چھ سو ہو گی جو احمدیوں سے بھی کئی حصے تھوڑے ہیں اگر عام مسلمان ہمیں مرتد سمجھتے تو ان میں تبلیغ کا جوش پیدا ہو۔جاتا اور وہ ہم میں سے کئی افراد کو واپس لے جاتے۔اور پھر دوسری اقوام سے بھی ایک بڑی تعداد کو اسلام میں داخل کر لیتے۔لیکن ان لوگوں میں اسلام کی تبلیغ کا وہ جوش ہی پیدا نہیں ہوائیں کے معنے یہ ہیں کہ وہ ہمیں پہلے مسلمان خیال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے انہیں احمدیت سے مرتد کہ والیا تو یہ خراب ہو جائیں گے اور احمدیت کے قبول کرنے کی وجہ سے جو خوبیاں ان میں پیدا ہو چکی ہیں وہ بھی جاتی رہیں گی۔لاہور میں میرے پاس ایک دفعہ ایک غیر احمدمی مولودی