تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 9
9 ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اُن سرکردہ احمدیوں کے نام بتائیں۔بنو ان کو پوشیدہ ملتے ہیں۔لیکن انہوں نے اس سوال سے کتراتے ہوئے صرف یہ کہا کہ وہ لوگ تمہاری جماعت میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔لیکن اُن سے بہت بے انصافی کا برتاؤ ہوا ہے۔وہ قادیان میں بہت تنگ ہیں اُن کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے۔اور اپنی تنگ دستی اور پریشانیوں کی ہم سے شکایت کرتے ہیں اور ہم سے مالی امداد بھی طلب کرتے رہتے ہیں پھر کچھ توقف کے بعد کہنے لگے کہ وہی ہمیں بتاتے ہیں کہ قادیان بھر میں دو شخص بھی ایسے نہیں ملیں گے۔جو دل سے موجودہ خلیفہ سے خوش ہوں۔ڈر کے مارے کو ظاہر طور پر اب تک مخالفت نہیں ہوئی۔لیکن جہاں بھی موقع ملتا ہے۔لوگ خفیہ مجالس کر کے موجودہ خلیفہ صاحب کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔اور اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ حال ہی میں قادیان میں ایک جلسہ عام ہوا ہے جس میں اہلِ قادیان نے متفقہ طور پر خلیفہ صاحب کی اقتداء کے خلاف نکتہ چینی کی ہے۔اور صدائے احتجاج بلند کی ہے۔اس کے بعد کہا کہ تمہاری جماعت کے بزرگوں کے ذاتی کریکٹر کے متعلق بھی ہمیں اطلاعات ملتی رہتی ہیں اور پھر سلسلہ کے بزرگوں کے خلاف بعض الزامات بھی لگائے۔اس مرحلہ پر شیخ مد اقبال صاحب کی ایمانی غیرت نے خاموش رہنا گوارا نہ کیا۔اور نہایت پر خوش اب ولہجہ میں اُن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اپنا مکان قادیان میں ہے۔اور میں اور میرا خاندان ایک لمبے عرصہ تک وہاں مقیم رہے ہیں۔ہم بھی وہاں کے تمام حالات سے واقف ہیں۔لیکن میں عینی شاہد ہونے کی حیثیت سے ان تمام الزامات اور غلط واقعات کی تردیدہ کرتا ہوں۔لعنتہ اللہ علی الکا زمین اور کہتا ہوں کہ اگر چو ہدری صاحب ان نام نہا د سر کردہ احمدیوں کا نام نہیں بتا ئیں گے جو نہ صرف منافق ہیں۔اور خفیہ طور پر احرار سے ملتے ہیں بلکہ اپنے گذب اور جھوٹ کو راز کی باتیں بتا کہ اُن کے عوضی جماعت کے شدید دشمنوں کے سامنے کائٹہ گدائی لئے پھرتے ہیں تو میں یہ کہنے پر مجبور ہوں گا کہ یہ سب کذب و افتراء چوہدری صاحب اور ان جیسے دیگر دشمنانِ احمدیت کی اختراع ہے۔اس پر سچو ہدری برکت علی صاحب نے احرار کے گماشتوں اور مخبروں کے چہرہ سے نقاب اٹھاتے ہوئے صاف صاف بتا دیا کہ وہ آپ