تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 8
A ۱۹۳۷ء سے ۱۹۳۰ء کے دوران شیخ فضل کریم صاحب پراچہ کے چھوٹے بھائی ایشیخ عبد الرحیم صاحب پر اچہ قالین کا کاروبار کرتے تھے۔اس سلسلے میں انہیں شملہ میں مسلم ہوٹل میں بھی قیام کرتا پڑا جہاں قالین کے ایرانی بیو پاری ٹھہرتے تھے۔ایک دن کا ذکر ہے کہ پراچہ صاحب ہوشی کے کھانے کے کمرے میں بیٹھے تھے کہ وہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ جناب مولوی عبد الوہاب صاحب احراری لیڈر مولومی حبیب الرحمان لدھیانوی کے والد مولوی محمد ذکریا سے محو گفتگو ہیں اور ملاقات کر رہے ہیں۔مولوی عبدالوہاب صاحب فارغ ہو کر چلے گئے تو مولوی محمد ذکریا نے پراچہ صاحب کی موجودگی میں ہوٹل کے مینجر کو بتایا کہ یہ قادیان کے مولوی عبدالوہاب صاحب ہیں۔جو ہمارے جاسوس ہیں۔اور ہمیں خبریں دیتے ہیں۔اپنی لوگوں سے مرزائیوں کے راز ہمیں معلوم ہو رہے ہیں۔اور آج یا کل وہ شملہ میں چوہدری افضل مفکر احرار ) کے پاس آئے تھے سے مولوی عبدالوہاب صاحب کی خفیہ ریشہ دوانیوں کی تصدیق شیخ محمد اقبال صاحب آن کوئٹہ کے چشمدید واقعہ سے ہوتی ہے۔غالباً ۹۳۳یر کی گرمیوں کا ذکر ہے۔کہ مجلس احرار کے ایک سرگرم رکن اور مکتبہ اردو اور ماہنامہ ادب لطیف لاہور کے مالک چوہدری برکت علی صاحب گرمیاں گزار نے کوئٹہ میں محکمہ ریلوے کے ایک غیر احمدی افسر کے ہاں مقیم تھے۔یہیں شیخ محمد اقبال صاحب سے اُن کی مذہبی گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔اُن کے لہجے میں ہمیشہ طنز کا پہلو نمایاں ہوتا اور بار بار کہتے ہیں کیا بتاتے ہو ہم تو آپ کی جماعت کے اندرون سے اچھی طرح واقف ہیں۔اس ضمن میں انہوں نے دوران گفتگو طنزاً کہا کہ تم بھی بیچتے ہو۔تمہیں ابھی اپنی جماعت کے مخفی حالات کا علم نہیں۔تمہاری جماعت کے سر کہ وہ لوگ ہم سے پوشیدہ ملتے رہتے ہیں۔اور اہلِ قادیان کے اندرونی حالات ہم کو بتاتے رہتے ہیں جس سے " مرزائیت کی سچائی " ہم پر خوب واضح ہو چکی ہے۔شیخ محمد اقبال صاحب نے ه منظور حسین یا منظور احمد سے حلفیہ بیان شیخ عبدالرحیم صاحب پر اچه روزنامه الفضل ۲ اکتوبر ۹۵۶ منہ کالم ۲۱