تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 10
کے خلیفہ اول کے صاحبزادے مولوی عبد الوہاب ہیں لیے یہ تو مولوی عبد الوہاب صاحب کا حال تھا۔جہاں تک ان کے چھوٹے بھائی مولوی عبد المنان صاحب عمر کا تعلق ہے۔وہ حضرت مصلح موعود کے خلاف معاندانہ پراپیگنڈا کرنے کا کوئی موقع نہ تھے سے جانے نہیں دیتے تھے۔محمد عبد اللہ صاحب ظفر واں کو اُن کے ایک غیر احمد می دوست نے (جو علاقہ مجسٹریٹ کے ریڈر تھے بتایا کہ مولوی عبد المنان صاحب عمر کے پاس میں پارٹیشن سے پہلے جب کبھی جاتا تھا۔وہ حضور کے خلاف سخت غیظ و غضب کا اظہار کرتے اور کہا کرتے تھے یہ دیکھو جی کھائی ہمارے باپ کی اور کھا یہ رہے ہیں۔ہمیں کوئی پوچھتا بھی نہیں اور ان کے محل بن رہے ہیں کیا حالانکہ یہ سراسر خلاف واقعہ اور خلاف تقویٰ بات تھی۔سیدنا حضرت مصلح موعود کو حضرت خلیفہ اول اور آپ کے خاندان کے ساتھ ایک مثالی محبتت مفتی۔حضور نے اراضی سندھ میں حضرت خلیفہ اول کی یادگار کے طور پر نور نگر کے نام سے ایک بستی آباد کی۔حضرت خلیفہ اول اور آپ کے اہل خانہ اور صاحبزادوں خصوصا میاں عبد الوہاب صاحب اور مولوی عبد المنان صاحب پہ تو حضرت مصلح موعود کے ان گنت احسانات تھے اُن کی تعلیم اور دنیا وی ترقی سید نا حضرت مصلح موعود اور جماعت کے رہین منت تھی۔اور اُن کی سازستوں منصوبوں اور مخالفانہ اور بغض و عناد سے بھری ہوئی کارروائیوں کے باوجود بھی حضور ہمیشہ ایک مشفق باپ کی طرح ان کی سر پرستی فرماتے آرہے تھے۔اور اُن کا ہر دکھ در و حضور کو بے قرار اور مضطرب کر دیا کرتا تھا۔د میں حضور حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کی بیماری کے دوران شیخ بشیر احم صاحب ایڈووکیٹ لاہور کے ہاں قیام فرما تھے۔انہی ایام میں حضور نے پانچ ہزار کا چیک میاں عبدالمنان صاحب کو دیا اور ارشاد فرمایا کہ اس سے کوئی کام کریں۔خود بھی فائدہ اٹھائیں اور والدہ کی بھی مدد کریں۔چنانچہ انہوں نے اسی رقم سے قادیان میں اپنا ذاتی پریس لگا یا میلہ به روز نامه الفضل ، راکتو بر وارد صدا کالم اتمام حیفه شهادت شیخ محمد اقبال صاحب ابن حضرت شیخ کریم بخش صاحب آف کوئی اسے " نظام آسمانی کی مخالفت مشلار مشت (بقیہ ماشہ ملا پر)