تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 209 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 209

قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی امیر صوبہ سرحد تھے، جن کو دیکھ کر حضور بہت خوش ہوئے۔حضرت سید الم صاحب شہید بریلوی کے مزار پر حضور نے ایک لمبی اور سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی دعا کرائی۔دعا کے موقع پر ڈاکٹر غلام اللہ صاحب نے چند ایک فوٹو کھینچے۔دعا کے بعد حضور نے اپنا دست مبارک کتبہ پر رکھا ڈاکٹر صاحب نے اس موقع کا فوٹو بھی لے لیا۔یہ کتبہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی نے کئی سال قبل تیار کرا کے نصب کر دیا تھا یے اس تاریخی سفر کے مفصل حالات مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر انچارج شعبہ زود نویسی کے قلم سے درج ذیل کیے جاتے ہیں۔آپ نے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت سید احمد صاحب بریلو مٹی کے مرد اور مقدس پیر" کے عنوان سے الفضل میں لکھا۔: بر ۱۹۵۶ء میں جب سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تبدیلی آب و " ہوا کی عزمن سے مری سے ایبٹ آباد تشریف لے گئے۔تو حضور نے ایک روز حضرت سید احمد بریلوی کے مزار اقدس پردعا کرنے کی خواہش کا اظہار فرمایا۔اور اس عزم کے لیے ہمسفر اصحاب کو تیاری کا حکم دے دیا۔چنانچہ انتظامات کی تعمیل کے بعد حضور ۲۰ ستمبر بروز جمعرات بالا کوٹ تشریف لے گئے۔جو ایبٹ آباد سے ۵۰ میل کے فاصلہ پر ہے حضور ے بجے صبح ایبٹ آباد سے روانہ ہوئے اور سیدھے بالا کوٹ پہنچے۔چونکہ حضرت سید محمد اسمعیل صاحب شہید کا مزار بھی قریب ہی ہے اس لیے حضور نے پہلے ان کے مزار یہ دعا کرنے کا ارادہ فرمایا لیکن ابھی محفوڑا فاصلہ ہی حضور نے طے فرمایا تھا کہ بعض دوستوں نے عرض کیا کہ اگلا راستہ پہاڑی اور کٹھن ہے اور حضور کے لیے وہاں تک چل کر جا نامشکل ہو گا۔اس لیے مناسب ہے کہ ان کے مزار پر کسی اور وقت تشریعت سے جائیں حضور نے اس مشورہ کو قبول فرماتے ہوئے وہاں جانے کا ارادہ ترک فرما دیا۔اور راستہ بدل کر حضرت سیار احمد صاحب بریلوی کے مزار پر تشریف لے گئے۔وہاں پہنچنے پر خادم قبرستان نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ چونکہ حضرت سید صاحب کی قبر کے گرد قرآن خوانی کے لیے جگہ صاف کی گئی ہے اس لیے احباب جوتے اتار کر اندر تشریف لائیں۔چنانچہ قبر کے قریب پہنچکر تمام احباب نے جوتے له الفضل ۲۲ اگست ۱۹۶۵ ء مره