تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 208
Y-A فیض حاصل کرنے کا قیمتی موقع میتر آیا۔19 ستمبر کو حضور سیر کے لیے مانسہرہ تشریف لے گئے۔جہاں پیر نه مان شاہ صاحب نے حضور کے اعزاز میں دعوت کا انتظام کیا جس میں گردو نواح کی جماعتوں کے دوست بھی مدعو متے پھگلا کے ایک احمد می بزرگ سید عبدالرحیم شاہ صاحب بھی اس تقریب میں چند غیر احمدی معززین کے ساتھ حاضر تھے۔انہوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے حضرت مصلح موعود کی خدمت اقدس میں عرض کی کہ حضور بالا کوٹ تشریف لے جاتے ہوئے ہمارے گاؤں چھ گاہ کو بھی برکت بخشیں اور ہماری طرف سے چائے قبول فرمائیں۔حضور نے از راہ شفقت یہ دعوت منظور فرمانی اور ارشاد فرمایا کہ بالاکوٹ سے واپسی پر بھنگلہ بھی آئیں گے اس پر انہوں نے واپس آتے ہی مع اپنے صاحبزادوں کے حضور کے استقبال کی زور شور سے تیاری شروع کر دی۔پکی سڑک سے گاؤں تک دو تین فرلانگ کی کچی سڑک کو مرمت کرایا۔جگہ جگہ چونے کا چھڑ کا ڈکیا۔اور مختلف مقامات پر أَهْلاً و سهلاً و مرحبا کے قطعات آویزاں کیئے اور مختلف جگہوں کو عمدہ طریق پر آراستہ کر کے ایک ہی دن میں تمام تیاری مکمل کر لی۔اگلے روز ۲۰ ستمبر بروز جمعرات حضور معہ قافلہ کے بالاکوٹ تشریف لے گئے حضور کے ساتھ کار میں ڈاکٹر چوہدری عسلام اللہ صاحب اسے اور مرزا عبد اللہ جان صاحب کو بھی رفاقت کا شرف حاصل ہوا حضور کے اہل و عیال دوسری گاڑی میں سوار تھے۔راستے میں ایک کے کار سبھی شامل ہو گئی جس میں حضرت راه ولادت ۶۱۹۰۱۔آپ اور حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شا ہیما پوری دونوں حضرت پیر با با مساب بیر سوات کی اولاد میں سے تھے ۲۴ - ۱۹۲۲ء میں احمدیت قبول کی اور اس علاقہ تک پیغام حق پہنچانے حب میں آخری دم تک سرگرم عمل یہ ہے۔۱۲ جولائی ۱۹۷۴ء کو انتقال کیا۔اولاد - سیدمحمد بشیر شاہ صا- سید میر صادق صاحب سید عبدالرزاق شاه همان سید لقمان شاه ما - سیداقبال شاه مان سید نذیر شاه ما خورشید بیگم صاحبه امید سخاوت شاه مات کرا چی ر بریان بدایت جلد دوم مر ۴۱ مواقفه مولوی عبدالرحمن صاحب بیشتر طبع اول دسمبر ۱۹۷۹ء) ہ یہ گاؤں اس علاقہ میں احمدیت کا ایک مرکز سمجھا جاتارہا ہے اور مانسہرہ سے کشمیر کا غان روڈ پر قریباً گیارہ میل کے فاصلہ پر بڑ اسی جنگل کے دامن میں واقع ہے اور ایبٹ آباد سے قریباً ۲۵ میل دور ہے۔