تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 203
منصوبہ کے مطابق کیا گیا ہو قرآن وسنت کے بھی منافی ہے۔اگر احمدیہ انجمن ، احمد یہ بلڈنگس رفاہی ادارے ہیں تو یہ فیصلہ ایک منظوم احمدی کے لیے بالکل ناروا ، کھلم کھلا بربریت اور ظلم کے برابر ہے میں نے ۲۴ سال احمد یہ جادو نگس میں مقیم ہو کرہ اشاعت اسلام اور اسلام کی عرض سے زندگی وقف کرد می جوانی گزار دی۔اس عرصہ میں مجھ پر طرح طرح کے ظلم کیے گئے حقوق انسانیت سلب کیے گئے مجھے خواہ مخواہ ظلم وستم کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔سوائے زخموں ، امیوں کے مجھے احمدیت کی خدمت کر کے اور کیا ملا ہے۔احمدیہ بلڈنگس میری پناہ گاہ ہے۔اس کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔آپ کو بخوبی علم ہے کہ فریق ثانی نے مجھ پر صرف اس لیے ظلم وستم کیے کیونکہ میں احمدیہ بلڈ جس میں مقیم تھا اور احمدیہ انین لاہور کا ٹر پر تقسیم کرتا تھا۔انہوں نے عام اخباروں، الفضل میں میرے خلاف پراپیگنڈا کر کے مجھے ذلیل ورسوا کرنے کی کوشش کی اور جان سے مار دینے کی دھمکی دی گئی غریب اور امیر کے چندہ سے ہمیت المال جاری کیا گیا۔اس بیت المال سے امیر، جنرل سیکرٹری ، کارکنان ، ایڈیٹر ان سب ڈبل تنخواہیں لیتے ہیں۔مگر میں نے نشہ سے سات دیر تک محض اعزازی کام کیا ہے۔ہ میں حج بیت اللہ کی داسی کے بعد معمولی وظیفہ لینا شروع کیا کھانا تو ڈاکٹر مرحوم صاحب سابقہ صدر کے زمانہ سے ملتا تھا اور اب تک جاری ہے اور وظیفہ بھی۔ایک سال سے حکومت نے مہنگائی الا ڈلن کا عام اعلان کیا ہے میں نے بھی اپنی چند مجبوریوں کی بناء پر مطالبہ کیا کہ مجھے بھی ۳۵ روپے ملنے چاہیئیں۔میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ میں لوگوں کو آپ نے مہنگائی الاؤنس دیا ، کیا ان لوگوں کو گھروں سے نکال دیا گیا۔پھر میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں ؟۔یہ انسانیت کے خلاف فیصلہ ہے اگر آپ نے اس فیصلہ پر نظر ثانی نہ کی تو میں راست اقدام کروں گا۔ظالموں کو بے نقاب کروں گا اور انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔پھر نہ کہنا خبرنہ ہوئی اتے لہ اس اصطلاح سے یہاں مراد عملاً عداوت محمود ہے که در روزنامه امروز رہا ہوں اور مئی ۱۹۷۴ء صفحہ ۴ کالم ۳ - ۴ رناقل)