تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 3 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 3

نہیں لگا کہ حضرت خلیفہ البیع الاول پسر وعود والی تمام پیشنگوئیوں کا مصداق حضرت خلیفہ ربیع الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو ہی جانتے تھے کالے 19 افسوس منکرین خلافت نے ۱۹۱۳ء میں حضرت خلیفہ اسمع الاول ہی کے گھر کو حضرت مصلح موعود کی مخالفت کا مرکز بنانے کا فیصلہ کر لیا۔چنانچہ جناب میاں عبدالوہاب صا حدیے نے بروایت مولوی عبد الباقی صاحب بہاری ایم۔اے یہ حقیقت افروز بیان شائع کیا: - حضرت خلیفہ المسیح الا ان کی وفات کے بعد خلافت ثانیہ کے زمانہ میں خلافت کے چند دشمن حضرت مولوی عبدالحی صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ خلیفہ بن جاتے تو ہم آپ کی اطاعت کرتے۔مولوی عبدالحئی صاحب نے باوجود بچپن کے ان کی جو جواب دیادہ اس قابل ہے کہ سلسلہ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے۔انہوں نے فرمایا یا تو آپ کو آپ کے نفس دھوکہ دے رہے ہیں یا آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ بنتا تب بھی آپ میری اطاعت نہ کرتے۔اطاعت کرنا آسان کام نہیں۔ہمیں اب بھی تمہیں حکم دوں تو تم ہرگنہ نہ مانو۔اس پر ان میں سے ایک نے کہا کہ آپ نہیں حکم دیں۔پھر دیکھیں کہ ہم آپ کی فرمانبرداری کرتے ہیں یا نہیں۔مولوی عبدالحی صاحب نے کہا۔اگر تم اپنے دعوئی میں بچتے ہو۔تو میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ جاؤ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی بیعت کر لو یہ بات سنکہ وہ لوگ بغلیں جھانکنے لگے اور کہنے لگے یہ تو نہیں ہو سکتا ہے یہ لوگ اگر چه حضرت مولوی عبدالحئی صاحب کی زندگی میں بری طرح ناکام رہے۔گائیوں نے ان کی وفات (نومبر شاملہ) کے بعد اپنے مزموم ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی سرگرمیاں تیز سے تیز تر کر دیں۔حتی کہ دو سال کے بعد حضرت مصلح موعود کو اتاں جی رحرم محترم سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الاول) کے گھر میں حضور کی درست کر کے زہر دینے کی له الفضل به راگست ۳۶ه ملت حضرت خلیفہ اول کے صاحبزادے الفضل ۲ اگست ۱۹۳۶ر مریم