تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 152
۱۵۲ کی جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے بھی وہ عظمت ڈالی ہے کہ باد جو اس کے کہ آپ کے بیٹوں نے مخالفت کی ہے پھر بھی ان کے باپ کی محبت ہمارے دلوں سے نہیں جاتی۔پھر بھی ہم انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بند کرے کیونکہ انہوں نے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کو مانا جب ساری دنیا آپ کی مخالف تھی۔اسی طرح آجکل ضلع جھنگ کے بعض نئے احمدی ہوئے ہیں اُن میں ایک مولوی عزیز الرحمن صاحب ہیں جو عربی کے بڑے عالم ہیں اور ان کا ایک عربی قصیدہ الفضل میں بھی چھپ چکا ہے۔ان کے والد جو اپنے بیٹے کیطرح عالم نہیں وہ یہاں آئے وہ کہیں جارہے تھے تو کسی نے میاں عبد الستان کو آتا دیکھ کہ انہیں بتایا کہ وہ میاں عبد المسان ہیں۔اس پر وہ دوڑتے ہوئے اس کے پاس پہنچے اور کہنے لگے میاں تیرے باپ کو اس در سے خلافت علی معھی اب سمجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو بھاگ رہا ہے پھر پنجابی میں کہا کہ جا اور جا کہ معافی مانگ۔عبد المنان نے کہا بابا جی ! میں نے تو معافی مانگی تھی وہ کہنے لگے اس طرح نہیں تو جا کہ ان کی دہلیز پر بیٹھ جا اور دیاں سے ہل نہیں تجھے دھکے مار کر بھی وہاں سے نکالنا چاہیں تو اس وقت تک نہ اٹھ جب تک کہ تجھے معافی نہ مل جائے۔مگر عبد المنان نے اس تو احمدی کی بات بھی نہ مانی پھر ایک نے بھی مری میں خطبہ دیا اور معانی کا طریق بتایا لیکن اس نے نہ تو اس طریق پر عمل کیا جو میں نے خطبہ میں بیان کیا تھا نہ اس طریق پر عمل کیا جو اس نے احمدی نے اسے بنا یا تھا اور اخباروں میں شور مچایا جارہا ہے بے شک وہ اور اس کے ساتھی اخباروں میں جلنا چاہیں شور مچالیں وہ اتنا شور تو نہیں بچا سکتے جتنا ۱۹۵۳ء میں جماعت کے خلاف مچایا گیا تھا مگر جو خدا ۵۳ور میں میری مدد کے لیے روڑا ہوا آیا تھا وہ خدا اب بڑھا نہیں ہو گیا کہ وہ ۱۵۳ میں دوڑ سکتا تھا اور اب نہیں دوڑ سکتا۔بلکہ وہ اُس وقت بھی دوڑ سکتا تھا اور اب بھی دوڑ سکتا ہے۔اور قیامت تک دوڑ سکے گا۔جب بھی کوئی شخص احمدیت کو چکنے کے لے آگے آئے گا میرا خدا دوڑتا ہوا آجائے گا اور جو شخص احمدیت کو مٹانے کے لیے نیزہ مارنے کی کوشش کرے گا۔میرا خدا اپنی چھائی اس کے سامنے کر دے گا۔اور تم یہ جانتے ہی ہو کہ میرے خدا کو نیزہ نہیں لگتا۔جو شخص میرے خدا کے سینہ میں نیزہ مارنے