تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 151
۱۵۱ جوتی پور ہے چنانچہ میں نے اپنی جونیوں کی نگرانی شروع کر دی کہ کہیں وہ لے کر بھاگ نہ جائے کہنے لگے اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فوت ہو گئے اور میں نے سنا کہ آپ کی جگہ کوئی اور شخص خلیفہ بن گیا ہے اس پر میں بیعت کرنے کے لیے آیا۔جب میں نے بیعت کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ وہی شخص تھا میں کو میں نے اپنی بے وقوفی سے جوتی پور سمجھا تھا یعنی حضرت خلیفہ اول۔اور میں اپنے دل میں سخت شرمندہ ہوا آپ کی عادت تھی کہ آپ جو نتیوں میں آکر بیٹھ جاتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام آواز دیتے تو آپ ذرا آگے آجاتے۔پھر جب کہتے مولوی نور الدین صاحب نہیں آئے تو پھر کچھ اور آگے آجاتے۔اس طرح بار بار کہنے کے بعد کہیں وہ آگے آتے تھے۔یہ قصہ سنا کہ میں نے انہیں کہا میاں آپ کے باپ نے جو نیوں میں بیٹھ بیٹھ کر خلافت کی تھی۔لیکن تم زور سے لینا چاہتے ہو اس طرح کام نہیں بنے گا۔تم اپنے باپ کی طرح جونیوں میں بیٹھو اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اس پر وہ چپ کر گیا۔اور میری اس بات کا اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ہم نے خود حضرت خلیفہ اول کو دیکھا ہے آپ۔۔۔۔۔۔۔بڑی مسکنت سے میٹھا کر تے تھے۔ایک دفعہ مجلس میں شادیوں کا ذکر ہورہا تھا۔ڈپٹی محمد شریف صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام کے رفیق ہیں سناتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے یعنی آپ نے اپنے لگی اٹھائے ہوئے تھے اور سر جھکا کہ گھٹنوں میں رکھا ہوا تھا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا مولوی صاحب جماعت کے بڑھنے کا ایک ذریعہ کثرت اولاد بھی ہے اس لیے میرا خیال ہے کہ اگر جماعت کے دوست ایک سے زیادہ شادیاں کریں تو اس سے بھی جماعت بڑھ سکتی ہے۔حضرت خلیفہ اول نے گھٹنوں پر سے سراٹھایا۔اور فرمایا حضور میں توہ تو آپ کا حکم ماننے کے لیے تیار ہوں لیکن اس عمر میں مجھے کوئی شخص اپنی لڑکی دینے کے لیے تیار نہیں ہوگا اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام ہنس پڑے تو دیکھو یہ انکسار اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کا ادب تھا جس کی وجہ سے انہیں یہ رتبہ ملا اب باوجود اس کے کہ آپ کی جماعت میں فتنہ پیدا کیا ہے لیکن اب بھی جماعت آپ کا احترام کرنے پر مجبور ہے اور آپ کے لیے دعائیں کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں اس انکار اور محبت