تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 150
کی سپاہ بھی قائم رہے۔لیکن ہماری فوج تلواروں والی نہیں۔ان انصار میں تو بعض ایسے ضعیف ہیں کہ ان سے ایک ڈنڈا بھی نہیں اٹھایا جاسکتا۔لیکن پھر بھی یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فوج ہیں اور ان کی وجہ سے احمدیت پھیلی ہے ایسے " آج ہی مجھے میرے نائی نے ایک لطیفہ سنایا کہ اس نے بتایا کہ میں میاں عبد المناں صاحب کی حجامت بنا نے گیا۔تو انہوں نے کہا کیا تم ڈر گئے تھے کہ حجامت بنانے نہ آئے یا تمہیں کسی نے روکا تھا ئیں نے کہا مجھے تو کوئی ڈر نہیں اور نہ کسی نے مجھے روکا ہے حجامت بنانا تو انسانی حق ہے اس سے مجھے کوئی نہیں روکتا اس لیے میں آگیا ہوں پھر میں نے کہا میاں صاحب میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں۔کہ پشاور سے ایک احمدی قادیان آیا اور وہ میاں شریف احمد صاحب سے ملنے کے لیے اُن کے مکان پر گیا۔اتفافا میں بھی اس وقت حجامت نہانے کے لیے ان کے دروازہ پر کھڑا تھا ہمیں معلوم ہوا کہ میاں صاحب اس وقت سو رہے ہیں اس پر میں نے کہا میں تو حجامت بنانے کے لیے آیا ہوں انہیں اطلاع دے دی جائے لیکن وہ دوست مجھے بڑے اصرار سے کہنے لگے کہ ان کی نیند خراب نہ کریں لیکن میں نے نہ مانا اور میاں صاحب کو بھجوا دی۔جس پر انہوں نے مجھے بھی اور اس دوست کو بھی اندر بلا لیا۔وہاں ایک چارپائی پڑی ہوئی تھی۔میں نے انہیں کہا کہ اس پر بیٹھ جائیے۔کہنے لگے میں نہیں بیٹھتا میں نے سمجھا شاید یہ چارپائی پر بیٹھنا پسند نہیں کرتے اس لیے میں ان کے لیے کرسی اٹھالایا۔لیکن وہ کرسی پر بھی نہ بیٹھے اور دروازہ کے سامنے جہاں جوتیاں رکھی جاتی ہیں وہاں پائیدان پر جا کر بیٹھ گئے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ نے کیا کیا میں نے چار پائی دی لیکن آپ نہ بیٹھے پھر کہ سی دی تب بھی آپ نہ بیٹھے اور ایک ایسی جگہ جا کہ بیٹھ گئے جہاں بوٹ وغیرہ رکھے جاتے ہیں کہنے لگے میں تمہیں ایک قصہ سناؤں۔میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا رفیق ہوں میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو ملنے کے لیے آیا آپ مسجد مبارک میں بیٹھے تھے۔اور دروازہ کے پاس جوتیاں پڑی تھیں ایک آدمی سید ھے۔سادھے کپڑوں والا آ گیا۔اور اگر جوتیوں میں بیٹھ گیا۔میں نے سمجھا یہ کوئی له الفضل ۲۴ مارچ ۱۹۵۷ ء ص ۵-۶ (اجتماع مجلس انصار الله مرکز به)