تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 149 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 149

۱۴۹ اسے دیکھ کر یہی کہے گا۔بہر رنگے کہ خواہی جامہ ہے پوسش من اندازه قدت را می شناسم تو کسی سرنگ میں بھی آ اور کسی بھیس میں بھی آ۔میں تیرے دھوکہ میں نہیں آسکتا کیونکہ میں تیر می چال اور قد کو پہچانتا ہوں۔تو چاہے مولوی محمد سل کا جیبتہ بہن نے چاہے انجمن احمد یہ اشاعت اسلام کا جبہ پہن لے یا حضرت خلیفہ اول کی اولاد کا جبتہ یہیں سے میں تمہیں پہچان لونگا اور تیرے دھو کہ میں نہیں آؤں گا۔مجھے راولپنڈی کے ایک خادم نے ایک دفعہ لکھا تھا کہ شروع شروع میں اندر کھا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مری کے امیر کے نام مجھے ایک تعارفی خط لکھدو میں نے کہا کہ میں کیا لکھوں مری جا کہ پوچھ لو کہ وہاں کی جماعت کا کون امیر ہے۔مجھے اس وقت فوراً خیال آیا کہ یہ کوئی منافق ہے۔چنانچہ میں لاحول پڑھنا شروع کر دیا۔اور آدھ گھنٹہ تک پڑھتا رہا۔اور سمجھا کہ شاید مجھ میں بھی کوئی نقص ہے جس کی وجہ سے یہ منافق میرے پاس آیا ہے۔تو احمدی عقلمند ہوتے ہیں۔وہ منافقوں کے غریب میں نہیں آتے۔کوئی کمز در احمدی ان کے فریب میں آجائے تو اور بات ہے۔ورنہ اکثر احمدی انہیں خوب جانتے ہیں۔اب انہوں نے لاہور میں اشتہارات چھاپنے شروع کیے ہیں جب مجھے بعض لوگوں نے یہ اطلاع دی۔تو میں نے کہا گھبراؤ نہیں۔پیسے ختم ہو جائیں گے تو خود بخود اشتہارات بند ہو جائیں گے۔مجھے لاہور سے ایک دوست نے لکھا۔کہ اب ان لوگوں نے یہ سکیم بنائی ہے کہ وہ اخباروں میں شور مچائیں۔اور اشتہارات شائع کریں۔وہ دوست نہایت مخلص ہیں۔اور منافقوں کا بڑے جونٹی سے مقابلہ کر رہے ہیں۔گر منافق اسے کذاب کا خطاب دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ یہ شخص یونہی ہمارے متعلق خبریں اڑاتا رہتا ہے۔لیکن ہم اسے جھوٹا کیونکہ کہیں۔اوپر ہمارے پاس یہ خبریں پہنچی کہ ن لوگوں نے یہ سکیم بنائی ہے کہ اشتہارات شائع کیے جائیں۔اور اور پر لاہور کی جماعت نے ہمیں ایک انتہار بھیج دیا۔جو ان منافقین نے شائع کیا تھا۔اور جب بات پوری ہو گئی۔تو ہم نے سمجھ لیا۔کہ اس دوست نے جو خبر بھیجی تھی وہ سچی ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو حقیقی انصار بنائے۔چونکہ تمہاری نسبت اس کے نام سے ہے۔اس لیے جس طرح وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔اس طرح وہ آپ لوگوں کی تنظیم کو بھی تا قیامت زندہ نہ رکھے۔اور جماعت میں خلافت معھی قائم رہے اور