تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 148 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 148

۱۴۸ محبت تھی۔وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔کہ دشمن آپ کی ذات پر حملہ آور ہو۔اس لیے وہ بے بیگرمی سے حملہ کرتے۔اور کفار کا منہ توڑ دیتے۔ان کے اندر شیر کی سی طاقت پیدا ہو جاتی تھی اور وہ اپنی جات کی کوئی پر واہ نہیں کرتے تھے۔یہ وہ کچھی محبت تھی۔جو صحابہ کو رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم سے تھی آپ لوگ بھی ان جیسی محبت اپنے اندر پیدا کریں۔جب آپ نے انصار کا نام قبول کیا ہے ، تهران جیسی محبت بھی پیدا کر یں۔آپ کے نام کی نسبت خدا تعالیٰ سے ہم اور خدا تعالیٰ ہمیشہ رہنے والا ہے۔اس لیے تمہیں بھی چاہیے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ انصار کے نام کو ہمیشہ کے لیے قائم رکھو۔اور ہمیشہ دین کی خدمت میں لگے رہو۔کیونکہ اگر خلافت قائم رہیئے گی ، تو اس کو انصار کی بھی ضرورت ہوگی۔مدام کی بھی ضرورت ہوگی۔اور اطفال کی بھی ضرورت ہو گی۔ورنہ اکیلا آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حواری دیئے ہوئے تھے۔اور رسول کریم لی اللّہ علیہ وسلم کوبھی للہ تعالی نے صحابہ کی جماعت دی۔اسی طرح اگر خلافت قائم رہے گی۔تو ضروری ہے کہ اطفال الاحمدیہ خدام الاحمدیہ انصار اللہ بھی قائم رہیں۔اور جب یہ ساری تنظیمیں جاری اور قائم رہیں گی۔تو خلافت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم رہے گی۔کیونکہ جب دنیا دیکھے گی کہ جماعت کے لاکھوں لاکھ آدمی خلافت کے لیے جان دینے پر تیار ہیں تو جیسا کہ میور کے قول کے مطابق جنگ احزاب کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پر حملہ کرنے کی وجہ سے حملہ آور بھاگ جانے پر مجبور ہو جاتے تھے۔اسی طرح دشمن اُدھر رخ کرنے کی جرات نہیں کرے گا وہ سمجھے گا کہ اس کے لیے لاکھوں اطفال الاحمدیہ۔خدام الاحمدیہ اور النضار جانیں دینے کے تیار ہیں اس لیے اگر اس نے حملہ کیا۔تو وہ تباہ دبرباد ہو جائیں گے۔مورمن وشن کسی رنگ میں بھی آئے جماعت اس سے دھوکا نہیں کھائے گی۔کسی شاعر نے کہا ہے سے بہر دینگے کہ خواہی جامہ مے پرسش - من اندازه قدرت را می شناسم تو کسی رنگ کا کپڑا پہن کہ آجائے۔تو گوئی بھیس بدل لے۔میں تیرے دھوکہ میں نہیں آسکتا۔کیونکہ میں تیرا قد پہچانتا ہوں۔اسی طرح چاہے خلافت کا دشمن حضرت خلیفہ قول کی اولاد کی شکل میں آئے۔اور چاہے وہ کسی بڑے اور مقرب صحابی کی اولاد کی شکل میں آئے ایک مخلص آدمی