تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 147
۱۴۷ کہ مومنوں سے خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔کہ وہ انہیں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جیسے اس نے اس سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔گو یا خلافت خدا فعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اور اس نے خود دینی ہے۔جو اسے لینا چاہتا ہے۔چاہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا ہو یا حضرت خلیفہ البیع الاول کا دہ یقینا سزا پائے گا۔پس یہ مت سمجھو کہ یہ فتنہ جماعت کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔لیکن پھر بھی تمہارا یہ فرض ہے کہ تم اس کا مقابلہ کرو اور سلسلہ احمدیہ کو اس سے بچاؤ۔دیکھو اللہ تعالی نے رسول کریم سے وعدہ کیا تھا کہ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔وہ آپ کو لوگوں کے حملوں سے بچائے گا اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ سے زیادہ سچا اور کس کا وعدہ ہو سکتا ہے۔مگر کیا صحابہ نے کبھی آپ کی حفاظت کا خیال چھوڑا بلکہ صحابہ نے ہر موقعہ پر آپ کی حفاظت کی۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر سے باہر ہتھیاروں کی آوانہ شمنی تو آپ باہر نکلے۔اور دریافت کیا کہ یہ کیسی آوازہ ہے صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ہم انصار ہیں۔چونکہ ارد گرد دشمن جمع ہے اس لیے ہم ہتھیار لگا کہ آپ کا پہرہ دینے آئے ہیں۔اس طرح جنگ احزاب میں جب دشمن حملہ کرتا تھا۔تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کی طرف جاتا تھا۔آپ کے ساتھ اس وقت صرف سات سو صحابہ تھے۔کیونکہ پانچ سوصحابہ کو آپ نے عورتوں کی حفاظت کے لیے مقرر کر دیا تھا۔اور روشن کی تعداد اس وقت سولہ ہزار سے زیادہ تھی۔لیکن اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی۔اور دشمن ناکام و نامراد رہا۔میور جیسا دشمن اسلام لکھتا ہے ، کہ اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح اور کفار کے شکست کھانے کی توجہ تھی کہ کفار نے مسلمانوں کی اس محبت کا جو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھی۔غلط اندازہ لگایا تھا۔وہ خندق سے گزر کر سیدھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کا رخ کرتے تھے۔جس کی وجہ سے مسلمان مرد عورتیں اور بچے سب مل کر ان پر حملہ کرتے اور الیسا دیوانہ وار مقابلہ کرتے کہ کفار کو بھاگ جانے پر مجبور کر دیتے۔وہ کہتا ہے کہ اگر کفار یہ غلطی نہ کہتے اور رسول کریم صلی الہ علی وسلمکے خیمہ کی بجائے کسی اور جہت میں حملہ کرتے تو وہ کامیاب ہوتے۔لیکن وہ سیدھے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کا رخ کرتے تھے۔اور مسلمانوں کو رسول کریم صلی اللہ علی وسلم سے نہایت ه المائده : ۶۸