تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 144 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 144

۱۴/۴ میسیج کی جماعت میں بھی بعض ایسے لوگ پیدا ہوئے تھے جنہوں نے پیغامیوں سے مدد لے کر جماعت میں فتنہ کھڑا کرنا تھا۔لیکن ہمیں عیسائیوں کے صرف عیب ہی نہیں دیکھنی چاہئیں جہاں ان میں ہمیں یہ عیب نظر آتا ہے کہ ان میں سے ایک نے تمہیں روپے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام کو بیچ دیا وہاں ان میں یہ خوبی بھی پائی جاتی ہے کہ آجتک جب کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر دو ہزار سال کے قریب عرصہ گزر چکا ہے وہ آپ کی خلافت کو قائم رکھے ہوئے ہیں چنانچہ آج جب میں نے اس بات پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس چیز کا وعدہ بھی حواریوں نے کیا تھا چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جب کہا مَنْ انصاری الی الله کہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں میری کون مدد کرے گا تو حواریوں نے کہا نَحْنُ أَنْضَارُ اللہ ہم خدا تعالیٰ کے رستہ میں آپ کی مدد کریں گئے۔انہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔پس اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم وہ انصار ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف نسبت دی گئی ہے اس لیے جب تک خدا تعالیٰ زندہ ہے اس وقت تک ہم بھی اس کی مدد کرتے رہیں گے چنانچہ دیکھ لو حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر قریبا دو ہزار سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن عیسائی لوگ برابر عیسائیت کی تبلیغ کرتے چلے جار ہے ہیں اور اب تک ان میں خلافت قائم ملی آتی ہے اب بھی ہماری زیادہ تر فکر عیسائیوں سے ہورہی ہے جو مسیح علیہ السلام کے متبع اور سائن کے ماننے والے ہیں اور جن کا نام رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال رکھتے ہوئے فرمایا کہ خدا تعالے کے سارے نبی اس فتنہ کی خبر دیتے چلے آئے ہیں عز من وہ مسیح ناصری جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے ان پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ان کے انصار نے اتنا جذبہ اخلاص دکھایا کہ انہوں نے دو ہزار سال تک آپ کی خلافت کو مٹنے نہیں دیا کیونکہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اگر مسیح علیہ السلام کی خلافت مٹی تو مسیح علیہ السلام کا خود اپنا نام بھی دنیا سے مٹ جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مشروع عیسائیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ایک حواری نے آپ کو تیس روپے کے بدلہ میں دشمنوں کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔لیکن اب عیسائیت میں وہ لوگ پائے جاتے ہیں جو سیعیت کی اشاعت اور حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا منوانے کے لئے کروڑوں کروڑ روپیہ دیتے ہیں اس طرح اس بات میں بھی