تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 145
۱۴۵ کوئی شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کے صحابہ نے اپنے زمانے میں بڑی قربانی کی ہے لیکن آپ کی وفات پر ابھی صرف بہم سال ہی ہوئے کہ جماعت میں سے بعض ڈانوا ڈول ہونے لگے ہیں اور پیغامیوں سے چند روپہلے لے کہ ایمان کو بیچنے لگے ہیں حالانکہ ان میں سے بعض پر سلسلہ نے ہزار ہا روپے خرچ کئے ہیں میں پچھلے حسابات نکلوار رہا ہوں اور میں نے دفتر والوں سے کہا ہے کہ وہ بتائیں کہ صدر انجن احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کے خاندان کی کتنی خدمت کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فوت ہوئے ۴۸ سال ہو چکے ہیں۔اور حضرت خلیفہ المسیح اول کی وفات کہ ۴۲ سال کا عرصہ گزرچکا ہے گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کا فاصلہ زیادہ ہے اور پھر آپ کی اولاد بھی زیادہ ہے لیکن اس کے با وجود میں نے حسابات نکلوائے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر انجمن احمدیہ نے حضرت خلیفہ المسیح اول کے خاندان کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے خاندان پر کم خرچ کیا ہے لیکن پھر بھی حضرت خلیفہ المسیح اول کی اولاد میں یہ لالچ پیدا ہوئی کہ خلافت کو سنبھا نو یہ ہمارے باپ کا حق تھا جو ہمیں ملنا چاہیئے تھا چنانچہ سندھ سے ایک آدمی نے مجھے لکھا کہ میاں عبد المنان کے بھانجے مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کا ایک پر دردہ شخصی بشیر احمد آیا اور اس نے کہا کہ خلافت تو حضرت خلیفہ اسی اوّل کا مال تھا اور ان کی وفات کے بعد ان کی اولاد کو ملنا چاہیئے تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اولا د نے اسے غصب کر لیا اب ہم سب نے مل کہ یہ کوشش کرنی ہے کہ اس حق کو دوبارہ حاصل کریں پھر یکں نے میاں عبد السلام صاحب کی پہلی بیوی کے سوتیلے بھائی کا ایک خط پڑھا جس میں اس نے اپنے سوتیلے ماموں کو لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ مشرقی بنگال کی جماعت نے ایک دیرینہ دلیوشن پاس کر کے اس فتنہ سے نفرت کا اظہار کیا ہے ہمیں تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔ہمارے لیے تو موقعہ تھا کہ ہم کوشش کر کے اپنے خاندان کی وجاہت کو دوبارہ قائم کرتے یہ ویسی ہی نا معقول حرکت ہے جیسی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی وفات پر لاہور کے بعض مخالفین نے کی تھی۔انہوں نے آپ کے نقلی جنازے نکالے اور آپ کی وفات پر خوشی کے شادیانے بجائے وہ تو دشمن تھے لیکن یہ لوگ احمدی کہلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس موقع