تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 143 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 143

١٤٣ 1907 ا علاقہ فتح کر لیا۔اور پھر بعض مسلمان افغانستان اور ہندوستان آئے۔اور بعض افریقہ چلے گئے اور ان ممالک میں انہوں نے اسلام کی اشاعت کی یہ سب خلافت کی ہی برکات مفتیں ہے حضرت مسیح ناصری کے انصار کی وہ نشان نہیں تھی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انصار کی تھی لیکن پھر بھی وہ اس وقت تک آپ کی خلافت کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور ان کی ایک وقت تک آپ کی خلافت کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور یہ ان کی ایک بہت بڑی خوبی ہے مگر تم پیغامیوں کی مدد کے لالچ میں آگئے اور انہوں نے خلافت کو مٹانے کی کوششیں شروع کر دیں اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ ان لوگوں میں اس عظیم ایشان باپ کی اولاد بھی شامل ہے جس کو ہم بڑی بڑی قدر اور عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔حضرت خلیفہ مسیح اقول کی وفات پر ۴۲ سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر میں ہر قربانی کے موقع پر آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔تحریک جدید ۱۹۳۳ سے شروع ہے اور اب یہ ہے گویا اس پہ ۲۲ سال کا عرصہ گزر گیا ہے۔شاید حضرت خلیفہ المسیح اول کی اولا د خود بھی اس میں حصہ نہ لیتی ہو۔لیکن میں ہر سال آپ کی طرف سے اس میں چندہ دیتا ہوں تاکہ آپ کی روح کو بھی ثواب پہنچے۔پھر جب میں حج پر گیا تو اس وقت بھی میں نے تو آپ کی طرف سے قربانی کی تھی۔اور اب تک ہر عید کے موقع پر آپ کی طرف سے قربانی کرتا چلا آیا ہوں۔غرض ہمارے دل میں حضرت خلیفہ المسیح اول کی بڑی قدر اور عظمت ہے لیکن آپ کی اولاد نے جو نمونہ دکھا یادہ تمہارے سامنے ہے اس کے مقابلہ میں تم حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والوں کو دیکھو کہ وہ آج تک آپ کی خلافت کو سنبھالتے چلے آتے ہیں ہم تو اس میسج کے صحابہ اور انفار ہیں جس کو میسیج ناصری پر فضیلت دی گئی ہے۔مگر ہم جو افضل باپ کے روحانی بیٹے ہیں ہم میں بعض لوگ چند روپوں کے لالچ میں آگئے شاید اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی یہ مماثلت بھی پوری ہونی تھی کہ جیسے آپ کے ایک حواری ہو را اسکر یوطی نے رویوں سے تیس روپے لے کہ آپ کو بیچے دیا تھا اور اس طرح اس له الفضل ۱۲۰ اپریل ۱۹۵۷ و دره کالم ۲ تام - حتہ کالم علا الفصل یکم مئی 1986 ء سے کالم ۲۱ ر اجتماع خدام الاحمدیه مرکه بید)