تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 122
۱۲۲ اس خط میں بھی انہوں نے اگر چہ بظا ہر حضرت مصلح موعود دسے عقیدت را خلاص کا اظہارہ کیا مگریہ اپنے پر عائد شده الزامات کی وضاحت بھی نہ غیر مبائعین کے اعتراضات کا جواب تھا اور نہ ان منافقوں سے بیزاری کا اظہارہ تھا جو ان کو ساتھی قرار دیکر اُن کی خلافت کے حق میں پراپیگنڈا کر رہے تھے امی ہوائی پنجاب کے قلم سے اجمالی تفصیل اس مکتوب و اقعہ جو دراصل اپنی خویت اس کا مقصد چونکہ محض مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنا اور احمدیوں کو مغالطہ دے کر ان کی ہمدردیاں حاصل کرنا تھا اس لیے مرزا عبد الحق صاحب ایڈووکیٹ سر گور دلا میر صوبائی پنجاب کی طرف مولوی عبد المنان صاحب کے کیس کی اجمالی تفصیلات کے عنوان سے حسب ذیل مضمون بصورت ٹریکٹ شائع کیا گیا تا احباب جماعت پر یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے کہ مولوی عبد المنان صاحب عمر اب تک معافی کے اس صحیح اور مومنانہ طریق معانی سے گریزاں ہیں جن کی نشاندہی حضرت مصلح موعود اپنے خطبہ جمعہ ۱۴ ستمبر ۱۹۵۶ء میں فرما چکے تھے۔بسم الله الرحمن الرحیم محمده وتفضلى على رسوله الكريم مولوی عبد المنان منانے ابتک اپنی صفائی کیلئے صحیح راہ اختیار نہیں کی اجنا جماعت کی آگاہی کیلئے- مولوی عبد المنان حنا کے کیس کی اجمالی تفصیت مولوی عبد المنان صاحب عمر کا ایک خط بعنوان " قام بانی خلافت سے دستبرداری حال ہی میں ایک مخالف اخبار کو بستان را ولپنڈی اور کوہستان لاہور میں شائع ہوا ہے۔اس خط میں مولومی صاحب نے بظا ہر اپنے پہلے رویہ کے بر عکس سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے عقیدت کا اظہارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ میں حضور کو مصلح موعود اور خلیفہ بر حق یقین کرتا ہوں۔ہیونکہ یہ خط لحمض ایک مخالف اخبار میں ہی شائع ہوا ہے اور حصوبہ کی خدرست ہیں یا کم از کم نظارت امور عامہ میں انہوں نے نہیں لکھا۔اس لیے مرکز کی طرف سے ایک مرکز لیٹر کے ذریعہ