تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 123 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 123

احباب جماعت پر اس خط کی حقیقت واضح کر دی گئی تھی۔لیکن پور پر بھی جماعت کا کوئی ایسا فرد جسے حالات کی پوری واقفیت نہ ہو مولوی عبد المنان صاحب کے اس خط سے کسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتا ہے اس لیے میں نے بحیثیت صوبائی امیر خالصتاً اس نقطہ نگاہ سے مولوی عبد المنان صاحب کے کیس کو پڑھا ہے کہ تا میں اجمالی رنگ میں تمام واقعات احباب جماعت کی خدمت میں پیش کر سکوں اور انہیں صحیح صورت حال سے آگاہ کروں۔سو ذیل میں چند امور بالترتیب لکھ رہا ہوں:۔ا فتنہ منافقین کا انکشاف جولائی کے آخری ہفتہ میں ہوا۔ان دنوں موادی عبد المنان تھا۔پاکستان سے باہر تھے۔۲۔ان کی عدم موجودگی میں کئی ایسی شہار نہیں مل چکی تھیں اور بعض اخبار میں بھی شائع ہو چکی ن تھیں کہ 1 - اُن کے بھائی عبد الوہاب صاحب کہتے ہیں کہ اب خلیفہ بوڑھا اور کمزور ہو چکا ہے۔اس لیے انہیں معزول کر کے کسی اور کو خلیفہ مقرر کرنا چاہیئے۔ب بعض منافقین نے علی الاعلان کہا کہ وہ مولوی عبد المنان صاحب کے سوا آئندہ کسی اور کو خلیفہ ماننے کے لیے ہر گز تیار نہیں ہوں گے۔ج۔بعض منافقین نے کہا کہ نعوذ باللہ سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصره العزیز صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی خلافت کے لیے رستہ صاف کر رہے ہیں۔اور اس عراض سے مولوی عبد المنان صاحب کو جو خلافت کے مستحق اور امیدوار ہیں نظر اندازہ کیا جارہا ہے اور جماعت میں اُن کو آگے آنے نہیں دیا جاتا۔وغیرہ وغیرہ یہ امورا ایسے ہیں جو صرف شہادتوں کے ذریعہ الفضل میں ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے اور اس کے بعد خود منافقین کی طرف سے بھی مخالف اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔- مولوی عبد المنان صاحب ستمبر کے پہلے ہفتہ میں ربوہ میں واپس آگئے۔انہوں نے آکر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں معافی کی درخواست کی اور کہا کہ ان کا کسی سازش پا پارٹی سے تعلق نہیں ہے۔۴۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے ان کو جواب دیا گیا کہ چونکہ وہ اتنا عرصہ