تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 113
١١٣ ور مولوی عبدالمنان صاحب کا دوسرا خط خاکسار کے نام آیا ہے اس خط میں انہوں نے اس عریضیہ کی تقل بھیجی ہے جو انہوں نے حضور کی خدمت اقدس میں ربوہ پہنچنے کے بعد گزارش کیا۔حضور کے اعلان سے بو الفضل میں چھپا تھا خاکسار نے اخذ کیا کہ اس میں ان کی طرف بھی اشارہ ہے۔اس سے فائدہ اٹھا کر مولوی عبد المنان صاحب کو خاکسار نے لکھا ہے کہ حضور کے اعلان نے ایک بہت صاف اور سیدھی راہ دکھا دی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ انہوں نے فوراً اس اعلان کے مطابق ان سب امور کی تردید شائع کرادی ہو گی جو ان کے یا ان کے عزیزوں کے متعلق کہے گئے ہیں یا جن کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔خاکسار نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے خلافت کے بنیادی مسائل مثلاً خلیفہ خدا بناتا ہے۔انجمن یا افراد نہیں بناتے۔خلیفہ معزول نہیں ہو سکتا۔ایک خلیفہ کی زندگی میں اُسی کے جانشین کے متعلق بحث یا تذکرہ موجب فساد اور بغاوت کی راہ ہے وغیرہ اس قدر وضاحت سے بیان فرما دیئے تھے کہ اس وضاحت کے ہوتے ہوئے انہیں پھر نہ یہ بحث لانا موجب حیرت اور افسوس ہے۔یہ بھی لکھا ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ میں کہا کہ مولوی عبدالوہاب صاحب کی مراد فقط یہ تھی کہ حضور کو دو معاون دیدئے جائیں تو انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ کہنا پڑتا ہے جماعت کے تمام مخلصین حضور کے خادم ہیں۔پھر انجمن۔تحریک مختلف ادارات نظار نہیں۔وکالتیں۔مفتی قاضی۔امیر۔کارکن سب حضور نے کام لینے کے لیے جاری فرمائی ہوئی ہیں تو معادن دیدئیے جائیں" لغو اور بے معنی ہے پھر کون معاون دیدے ؟ اور کیا دیدے ؟۔جب سب ہی حضور کے فرمان کے تابع ہیں تو دینے والا کون اور جو چیز پہلے ہی حضور کے تابع فرمان ہے اُسے دینا کیا معنی ؟۔خاکسار نے ان کے دونوں خطوں کا جواب پہلے تو نہیں دیا تھا لیکن حضور کا اعلان پڑھنے کے بعد اور پھر حضور کا وال نامہ پہنچنے پر خیال ہوا کہ ممکن ہے انہیں فائدہ پہنچ سکے اس لیے خاکسار نے انہیں لکھ دیا۔اطلاعاً گزارش خدمت اقدس ہے۔والسلام حضور کا غلام طالب دعا خاکسار ظفر اللہ خان “ 66 جناب میاں عبدالمستان صاحب عمر نے پاکستان پہنچنے کے بعد اولین قدم یہ اٹھایا کہ بجائے منافقین اور غیر مبالغین سے اظہار بیزاری کے اخبار پیغام صلح و راکتوبر ۱۹۵۶ء میں ایک مضمون شائع