تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 114 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 114

۱۱۴ را و یا بز خالطہ انگیزی کا شاہکار تھا۔جس میں حضرت مصلح موعود کی خلافت حقہ سے واضح طور پر اظہار فاداری کرنے کی بجائے اپنا عقیدہ ایسے پر پیچ الفاظ میں لکھا جس پر ہر غیر مبالغ اور ہر غیر احمدی بآسانی دستخط کر سکتا ہے چنانچہ لکھا۔:۔را میرا یہ عقیدہ ہے کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے متعلق تجویز خواہ وہ اس کی وفات کے بعد کے لیے ہی کیوں نہ ہو ختم نا جائز ہے۔خلافت حقہ اپنے ساتھ بے انتہا برکتیں رکھتی ہے اللہ تعالی کا ہاتھ اس کے اوپر ہوتا ہے وہ جماعتی اتحاد و ائتلاف کے قیام اور الہی نور کے اظہار کا ذریعہ ہے۔لیکن جو خلافت منصوبوں، سازشوں ، چالبازیو اورظاہر یا مخفی تر بیروں سے قائم کی جائے وہ پنی ساری برکتیں کھو دیتی ہے۔اسے اقتدار اور حکومت کا نام تو دیا جا سکتا ہے۔اسے یزیدی خلافت تو کہا جا سکتا ہے لیکن وہ خلافت رادہ نہیں ہو سکتی نہ اس کی برکات سے اسے حصہ ملتا ہے۔ایام مسلم راکوزی ۱۹۵۶ ۶ ص۲) اس مضمون کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے :- دیوه - مؤرخہ ۲۱ صفر ۱۳۶ مطابق ۲۷ ستمبر ۱۹ بخدمت جناب ایڈیٹر صاحب پیغام صلح السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکانه مہربانی فرماکر منسلکم بیان اپنے اخبار کی قریبی اشاعت میں درج کرکے ممنون فرمائیں۔والسلام خاکسار عبد المنان عمر انٹر نیشنل سیمینار ہاروڈ یونیورسٹی امریکہ میں شرکت کے بعد یہ عاجزہ ابھی حال ہی میں واپس آیا ہے۔اخبار الفضل کے کچھ پرچھے کیمبرج میں ملے تھے۔بقیہ میں نے یہاں آکر دیکھے اسی طرح مجھے یہاں آکر ہی ٹائمز آف کراچی پاکستان ٹائمز " " پیغام صلح ” نوائے پاکستان اور چٹان" وغیرہ اختبارات دیکھنے کا موقع ملا۔مجھے یہ معلوم کر کے بہت ہی دکھ ہوا کہ جماعت احمدیہ میں مسئلہ خلافت کے متعلق کچھ فقہ اور خلفشار پیدا ہوا ہے۔یہ امر بھی میرے رنج والم کا موجیہ ہوا کہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ گویا میرا بھی اس فتنہ میں کچھ ہاتھ ہے۔بعض لوگوں کی بد طینیوں۔قیاس آرائیوں مفروضات اور غلط بیانیوں