تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 112 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 112

کولے کر بتنگڑ بنالیا گیا ہے۔ان کی باتوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ رکھا کے تعلقات ان سے اور مولوی عبدالوہاب سے دیرینہ ہمیں چنانچہ قادیان سے آکر ربوہ میں اللہ رکھا مولوی عبد المنان صاحب کو ملا اور انہیں کہا کہ وہ اسے کوئی نوکری تلاش کردیں نیز ان کی باتوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مولوی عبد الوہاب صاحب عمران کے ساتھ بھی اس قسم کی گفتگو کرتے رہے ہیں لیکن مولوی عبد المنان صاحب کہنے لگے کہ میرے ساتھ جو گفتگو ہوئی تھی اس کا مطلب یہ تھا کہ حضور بیمار ہیں اور حضور پر کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے اس لیے حضور کسی کو اپنا قائم مقام بنا دیں جو کام سنبھالے اسی طرح تفسیر کبیر کے درس کے متعلق کہنے لگے کہ مولوی عبدالوہاب صاحب عمر کہا کرتے تھے کہ بہت سے لوگ اسے سمجھ نہیں سکتے کیونکہ یہ بہت گہری علمی باتوں پشتمل ہے اس کی بجائے عام درس ہو نا چاہیئے بہر حال مولوی عبد المنان صاحب عمر کی گفتگو سے ظاہر تھا کہ وہ بجائے اپنے بھائی کے فعل پر اظہار ندامت کرنے کے ان کی طرف لے رہے ہیں لائے مولوی عبد المنان صاحب امریکہ سے ستمبر ۱۹۵۶ء کے پہلے ہفتہ میں ربوہ پہنچے۔حضرت مصلح موعود نے ہم استبراء کے خطبہ جمعہ میں نہایت واضح لفظوں میں ان کی راہ نمائی فرمائی کہ فتنہ میں ملوث افراد کے لیے معافی اور توبہ کا رستہ کھلا تھا وہ کھلم کھلا لکھتے کہ میں ایک خلیفہ کی موجودگی میں غفلت امید دار پر لعنت بھیجتا ہوں اور اس کو اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے بالکل خلاف سمجھتا ہوں اسی طرح اور باتیں جو سلسلہ کے خلاف لکھی ہیں ان کی تردید کرتے اور اگر دوسرے اخبار نہ چھاپتے تو اخبار الفضل میں بھجواتے اور اگر الفضل نہ چھاپتا تو میرے پاس شکایت کرتے کہ اب ہمارے لیے کون سا رستہ کھلا ہے لیئے یہ خطبہ الفضل میں چھپا تو چو ہدری محمدظفر اللہ خاں صاحب نے ۱۵ اکتوبر ۱۹۵۶ء کو ہیگ سے حضور کی خدمت میں لکھا کہ۔-: به مکتوب مولوی نور الحق صاحب انور از نیجه بارک ار اگست ۱۹۵۶ء ریکار ڈ خلافت ۱۰ بریری : ۳- الفصل ۱۲ ستمبر ۱۹۵۶ ، صفحه ۶٫۵