تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 110
کے متعلق بولا جاتا ہے۔مگر وہاب صاحب کو اس کی تردید کی توفیق نہیں ملی۔جو شخص اپنے باپ پر افتراء کی تردید نہیں کر سکتا۔اس پر اور کوئی شخص کسی طرح اعتبار کر سکتا ہے۔پھر سفینہ میں چھپا ہے ہمارے پاس امتہ الحی مرحومہ کے خط ہیں جو اپنے خاوند کے خلاف ہیں امتہ الھی مرحومہ وہاب کی بہن بھی میں نص نے اپنی وفات یافتہ بہن کی ذلت کو اس لیے برداشت کیا ہے تاکہ میں بہ نام ہو جاؤں۔آپ کہتے ہیں میں اس پر اعتبار کروں یہ کیسی عجیب بات ہے۔یقیناً سفینہ کا وہ بیان دیا۔یاد باب کے دوستوں کی طرف سے ہے ورنہ ایک نہیں سالہ وفات یافتہ عورت کے متعلق بہتان طرازی کی جرات کوئی اخبارہ کر ہی کس طرح سکتا ہے ؟۔اگر رشتہ دار سا تھ ملے ہوئے ہوں اور وعدہ کرتے ہوں کہ وہ خط شناخت کے متعلق تائید کریں گے تب اور صرف تب کسی اخبار کو جرات ہو سکتی ہے۔والسلام