تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 109
1۔9 آپ کی چھٹی ہو آپ نے مولوی عبد الوہاب صاحب کے متعلق لکھی محتی حضور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیہ پیش کر دی گئی۔محاورہ ہے کہ اھلُ الْبَيْتِ ادْرَع بِمَا في البيت" یعنی گھر والے لوگ، دوسروں سے اپنے گھر کا مال زیادہ جانتے ہیں اس لیے آپ کی ناپسندیدگی۔اور ان کی پسندیدگی کو ہم زیادہ جانتے ہیں۔بہر حال آپ کے خط کا شکر یہ مگر آپ کا خط ہمارے خیالات کو بدل نہیں سکتا کیونکہ جس طرح آپ جماعت سے متعلق نہیں اور آپ کو جماعت کی باتوں سے دلچسپی نہیں اسی طرح ہم کو آپ کے مذہبی خیالات سے اتفاق نہیں۔اس وجہ سے ہمیں بھی آپ کے تاثرات سے کوئی زیادہ دیسی نہیں۔خاکسار عبد الرحمن النور ۹/۸/۵۶ محترم عبد المجید صاحب سالک آپ کی بھٹی محررہ یکم اکتو به ۵۶ و حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کے ملاحظہ میں آئی۔حضور نے فرمایا۔عبد الوہاب کو پتہ ہے آپ تیسرے آدمی ہیں عبدالوہاب کے متعلق ثابت شدہ ہے کہ وہ احراریوں سے ملتے رہے ہیں۔ابھی تازہ رپورٹ بھی کوئٹہ سے آئی ہے کہ وہ احراریوں سے بھی ملتے رہے ہیں۔احراریوں سے ملنے والی خبر اخبار میں بھی شائع ہو چکی ہے۔اور یہ لوگ تو چاہتے ہیں کہ کسی طرح اس وقت پردہ پڑ جائے اور پھر فساد اٹھائیں میرے پاس با قاعدہ اطلاعیں آرہی ہیں کہ عبد الوہاب کے پاس غیر مبائع ، غلام رسول نمبر ۳۵ اور بہت سے مخالف لوگ آتے ہیں مشکل یہ ہے کہ میں بیا نہ ہوں اور کام بھی بہت ہے اس لیے ہر رپورٹ کی نقل آپ کو نہیں بھجوا سکتا۔آپ کو صرف اتنا ہی پتہ لگتا ہے جو الفضل میں چھپتا ہے اور اپنی کم فرصتی کی وجہ سے آپ الفضل بھی سارا نہیں پڑھتے۔اگر پڑھتے تو آپ کو بہت ساری باتیں پتہ لگ جاتیں۔ابھی کوئی نہیں خطہ میں نے دبا کر رکھے ہوئے ہیں ان میں سے ایک خلط کو بیت کے ڈائر یکٹر آن امپورٹ ایکسپورٹ کا ہے۔جو اپنی تائید میں ڈاکٹر ریاض قدیر اور پروفیسر اقبال صاحب کا نام بھی لکھتا ہے۔اسی طرح ایک شہادت مسلم کانفرنس کشمیر کی ورکنگ کمیٹی کے ایک ممبر کی بھی ہے۔پھر آپ تو اخبامہ نویس بھی ہیں۔کبھی کبھی پیغام صلح بھی پڑھتے ہو نگے۔کیا اس میں نہیں آپ دیکھتے کہ کس طرح متواتر جھوٹ عبد الوہاب صاحب کے والد مرحوم مغفور