تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 111 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 111

فصل چهارم فتنہ منافقین سے متعلق حضرت مولوی عبد المنان صاحب عمر کا افسوس ناک رویہ اعلی موجود کے ابدان مینیات پشتل اخبار الفضل کے پرچے بذریعہ ڈاک امریکہ پہنچے توجو بدری خلیل احمد صاحب ناصر انچارج احمدیه مسلم مشن امریکہ نے مبلغ نیو یارک مکرم مولوی نور الحق صاحانے کو ہدایت کی وہ فوراً بوسٹن پہنچیں جہاں مولوی عبد المنان صاحب عمر ۲۱ را گست ۹۵۶ یک تھے۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف نیویارک سے ، راگست ۱۹۵۶ء کی شام کو بوسٹن پہنچے اور انہیں اخبار الفضل کے تازہ پرچے پڑھنے کے لیے دیئے۔مولوی نور الحق صاحب انور کا بیان ہے کہ :۔پڑھ کر انہوں نے بجائے اظہارہ ندامت کے کچھ اظہار ناراضنگی سا کیا اُن کی باتوں کا خلاصہ یہ تھا کہ بات دراصل کچھ بھی نہیں چو ہدری اسد اللہ خالصا حب کی مولوی عبدالوہاب حنا عمر سے ناراضگی ہے جس کا بدلہ چو ہدری صاحب نے اس صورت میں لیا ہے۔میں نے انہیں کہا کہ یہاں تو چو ہدری صاحب کا سوال نہیں اصل گواہی تو حاجی نصیر الحق صاحب کی ہے۔کہنے لگے ہو سکتا ہے کہ مولوی عبد الوہاب صاحب نے بات بے احتیاطی سے کی ہو بہر حال وہ میرے بھائی ہیں۔میں انہیں جانتا ہوں وہ بے احتیاطی سے بات تو کر سکتے ہیں لیکن پیغامیوں یا منافقوں کے آلہ کار نہیں ہو سکتے۔ان کی کسی چھوٹی سی بات لہ مولوی نور الحق صاحب انور نے ۲۵ اگست ۱۹۵۶ء کے مراسلہ میں حضرت مصلح موعود کی خدمت میں جولائی ۱۹۵۰ء کے اس واقعہ کی اطلاع دی کہ بالٹی میں باتوں باتوں میں مولوی صاحب نے مجھے کہا کہ پیغامی اکابرین ان کے ساتھ خاص تعلق رکھتے ہیں ایسا تعلق جماعت کے لوگ بھی نہیں رکھتے اور یہ کہ بودہ میں بھی پیغا میوں نے یہ تعلیم نہیں توڑا اور بعض اوقات پشاور سے ربوہ تک کا سفر پیغامی محض میری لاقات کی خاطر کہتے تھے (ریکا نہ ڈخلافت لائبریری)