تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 106
کی باری پہلے آگئی تھی۔اور ان کی بار می بعد میں آئے گی، بہر حال اس مضمون نے بنا دیا کہ لوگ جب کہتے تھے کہ ہمارا اس فتنہ سے کوئی تعلق نہیں تو جھوٹ بولتے تھے۔کیونکہ اگر ان کا اس فتنہ سے کوئی تعلق نہیں بجھا تو اب انہوں نے اپنا نظام اور اپنا روپیہ اور اپنا اسٹیج ان لوگوں کے لیے کیوں وقف کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ بات بتاتی ہے کہ پہلے جھوٹ بول کر انہوں نے اپنے فعل پر پردہ ڈالن چاہا مگر آخر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس پر دہ کو چاک کر دیا۔اور بتا دیا کہ ان کے اندرونی عزائم کیا ہیں جیسا کہ خدا تعالے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ : - قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ اَخْوَاهِهِمْ وَمَا تخفي صدور ھم اکبر ان کا غصہ ان کے مونہوں سے نکل آیا ہے۔لیکن جو غصہ ان کے تُخْفى ولوں میں چھپا ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے مگر اس کے علاوہ ان کا یہ مضمون میری سچائی کی بھی ایک واضح دلیل ہے۔کیونکہ تھوڑے ہی دن ہوئے ہیں اس کے متعلق ایک رڈیا الفصل میں شائع کروا چکا ہوں جو ان کے اس اعلان سے لفظاً لفظاً پورا ہو گیا ہے۔انہوں نے اپنے مضمون میں مجھے یہ طعنہ بھی دیا ہے کہ میں اپنے رویا رکشوں اور الہامات کو وحی نبوت کا درجہ دے رہا ہوں حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اگر کسی رڈیا کے پورا ہونے پر کوئی اعتراض ہو تو ان کا حق ہے کہ وہ اسے پیش کریں لیکن اگر کوئی کر ڈ یا پوری ہو جائے تو اس کے متعلق یہ کہنا کہ اُسے دھی نبوت کا مقام دیا جا رہا ہے۔اس بزدل فوجی کی سی حماقت ہےجو بھاگا جارہا تھا اور اپنے زخم پر ہاتھ لگاکر کہا جاتا تھا کہ یا اللہ یہ خواب ہی ہو یہ لوگ بھی دیکھتے ہیں کہ فلاں رویاء یا کشف پورا ہوگیا ہے لیکن چونکہ ان کا دل اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس لئے کہ دیتے ہیں کہ یا اللہ یہ جھوٹ ہی ہو۔حالانکہ جو بات پوری جائے اسے جھوٹا کون کہ سکتا ہے جو بات واقعہ میں پوری ہو جائے اسے جھوٹا کہنے والا پاگل ہی ہو سکتا ہے اگر ہم ایک خواب کے متعلق لکھتے ہیں کہ وہ پوری ہو گئی تو تم اس کے متعلق یہ تو کہ سکتے ہو کہ تمہارا یہ دعویٰ غلط ہے وہ خواب پوری نہیں ہوئی لیکن جو خواب پوری ہو گئی ہے اس کے متعلق یہ کیوں کہتے ہو کہ اسے وحی نبوت کا مقام دیا جا رہا ہے۔یہ تو دیسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ تم سورج کو سورج کیوں کہتے ہو۔تم زمین کو زمین کیوں کہتے ہو۔له ال عمران آیت : ۱۱۹