تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 105 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 105

۱۰۵ تمہاری تنظیم اور رویہ ان کے اتنا ہی کام آیا کہ انہوں نے مرتے وقت وصیت کی کہ تمہارے اکا یہ اُن کے جنازہ کو بھی ہاتھ نہ لگائیں اور آج تم ان باغیوں سے کہہ رہے ہو کہ تم ہمارے نظام میں شامل ہو جاؤ۔ہماری تنظیم ہمارا روپیہ اور ہمارا اسٹیج تمہارے لیے وقف ہے اگر تم اتنے بہادر تھے تو تم نے خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی کیوں مدد نہیں کی تھی ؟ مولوی محمد علی صاحب نے خود لکھا ہے کہ میں نے ساری عمر جماعت کی خدمت کی ہے لیکن اب جبکہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں مجھ پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ میں جماعت کا ۱۶ ہزار روپیہ کھا گیا ہوں اور مرند ہو گیا ہوں کیا ہی مدد بھی جو تم نے اپنی تنظیم اور روپیہ سے اپنے امام کی کی۔کہ اب تم منان اور اور اس کی پارٹی کی اس سے بھی زیادہ مدد کرد گئے ہیں کے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ اس سے زیادہ گند سے الزام ان پر لگاؤ گے اگر مولوی محمد علی صاحب سے تم نے یہ کہا تھا کہ وہ سولہ ہزار روپیہ کھا گئے ہیں تو تھوڑ بے دنوں ہی میں مولوی صدر الدین صاحب مولوی عبد المنان اور مولوی عبد الوہاب کے متعلق یہ کہو گے کہ یہ نہیں بتیس ہزار روپیہ کھا گئے ہیں ان کے احسانات خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے زیادہ نہیں۔پھر ان کی قابلیت بھی ان جیسی نہیں وہ دونوں علام رسول ۲۵ اور عبدالمنان سے زیادہ عالم تھے اور تم پر ان کے احسانات تھے ان میں ایک نے انگلینڈ میں مشن قائم کیا اور دوسرے نے قرآن کریم کا ترجمہ انگریزی زبان میں کہا۔لیکن تمہاری تنظیم اور تمہارا روپیہ ان کے کسی کام نہ آیا تم نے ان کی زندگی ہی میں ان کی مخالفت کی۔انہیں مرتد قرار دیا ان میں سے ایک پر یہ الزام لگایا کہ اس نے جماعت کا سولہ ہزار روپیہ کھا لیا ہے اور تم نے اسے اتنا دکھ دیا کہ اس نے مجبور ہو کہ مرتے وقت وصیت کی کہ فلاں فلاں شخص میرے جنازہ کو با محفظ لگائیں۔بس تمہاری تو یہ حالت ہے کہ تم نے اپنے محسن اور جماعت کے بانی مولوی محمد علی صاحب کو بھی دکھ دیا۔اور انہیں مرتد قرار دیا۔تم نے خواجہ کمال الدین صاحب کی بھی مخالفت کی اور انہیں مرتد قرار دیا۔اور اب مولوی صدر الدین صاحب، مولوی عبد المنان صاحب مولوی عبد الوہاب صاب اور ان کے سنا تھیوں کی بھی کسی دن باری آجائے گی اور مغفو ڑے دنوں میں تم دیکھ لو گے کہ انہیں بھی مرتد قرار دیا جا رہا ہے فرق صرف یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب